امریکہ ایران جنگ بندی خطرے میں ، ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کچرا قرار دے دیں


واشنگٹن :
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری ایک ماہ پرانی جنگ بندی کے مستقبل سے متعلق شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسے "انتہائی کمزور" قرار دیا ہے۔ اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے استعارتاً کہا کہ یہ جنگ بندی 'لائف سپورٹ' پر ہے اور اس کے بچنے کے امکانات محض ایک فیصد ہیں۔

ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز( Strait of Hormuz ) کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی گئی 14 نکاتی جوابی تجویز کو صدر ٹرمپ نے "کچرا" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت "غیر معتبر" ہے جو بار بار اپنے وعدوں سے پھر جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد قالیباف نے سوشل میڈیا پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا سبق آموز جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ جب تک ان کے 14 نکاتی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، جنگ بندی کا مستقل ہونا مشکل ہے۔

ایران کے مطالبات میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

٭ تمام محاذوں پر جنگ کا فوری خاتمہ (بشمول لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملے)۔

٭ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ۔

٭ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ۔

٭ آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کی تسلیم۔

امریکہ اور اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ ایران کو اپنی افزودہ شدہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر بھیجنا ہوگا اور ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنا ہوگا، جسے ایران نے اپنے امن منصوبے میں شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔واضح رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس بڑی جنگ کے بعد گزشتہ ماہ جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments