یوکرین جنگ میں جنگ بندی کا ڈرامہ یا حقیقت؟ صدر زیلینسکی کا روس پر 'انتہائی بے حسی' کا الزام، ماسکو کے قریب یوکرینی ڈرونز کی دستک

President Zelensky addressing the nation regarding Russia's ceasefire proposal and ongoing missile attacks on Ukraine.

 یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے روس کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز کو 'انتہائی بے حسی اور ڈھٹائی' قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روس نے دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی پر فتح کی یاد میں منائے جانے والے 'یومِ فتح' کی تقریبات کے لیے آٹھ اور نو مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا۔ تاہم یوکرین کا کہنا ہے کہ روس ایک طرف امن کی بات کر رہا ہے اور دوسری طرف یوکرین کے شہروں پر مسلسل مہلک میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے، جس سے اس کی نیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

روسی حکام نے جہاں دو روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا، وہیں یوکرین کو خبردار بھی کیا کہ اگر اس دوران کوئی کارروائی کی گئی تو دارالحکومت کیف کے مرکز پر 'بڑے پیمانے پر میزائل حملے' کیے جائیں گے۔ اس کے جواب میں یوکرین نے چھ مئی کی آدھی رات سے 'غیر معینہ مدت' کے لیے اپنی طرف سے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر زیلینسکی کا موقف ہے کہ یوکرین انسانی جانوں کی قدر کسی بھی جشن یا سالگرہ سے زیادہ کرتا ہے، اس لیے وہ پہل کر رہے ہیں تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ اصل میں جنگ کون جاری رکھنا چاہتا ہے۔ یوکرین نے واضح کیا ہے کہ وہ روس کی ہر کارروائی کا بھرپور اور برابر جواب دے گا۔

جنگ بندی کے ان اعلانات کے دوران ہی یوکرین بھر میں روسی میزائلوں اور ڈرونز نے تباہی مچائی۔ ان حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ صدر زیلینسکی نے ان حملوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ روس کی منافقت کی انتہا ہے کہ وہ اپنے پروپیگنڈا جشن کے لیے خاموشی مانگتا ہے لیکن اس سے پہلے ہر روز معصوم شہریوں پر میزائل برسا رہا ہے۔" انہوں نے روس پر زور دیا کہ وہ صرف تقریبات کے لیے نہیں بلکہ مستقل طور پر ہتھیار ڈالے اور حقیقی سفارت کاری کی طرف آئے۔

اپنی جانب سے جنگ بندی کے نفاذ سے قبل، یوکرین نے بھی روس کے اندرونی علاقوں میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔ یوکرینی افواج نے روس کے صنعتی علاقے کریشی اور چیبوکسری میں واقع ایک ایسی فیکٹری پر حملہ کیا جو فوجی آلات اور پرزے تیار کرتی ہے۔ یہ فیکٹری فرنٹ لائن سے تقریباً 1500 کلومیٹر دور واقع ہے۔ صدر زیلینسکی نے انکشاف کیا کہ اس حملے میں یوکرین میں تیار کردہ جدید 'فلیمنگو' کروز میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک تیز رفتار چیز کو فیکٹری سے ٹکراتے اور بڑے دھماکے ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یوکرین کے ان حملوں نے ماسکو کے حکام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے چھ میزائلوں اور 601 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ منگل کی صبح ماسکو کے تینوں بڑے ایئرپورٹس کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا اور شہر کے میئر نے تصدیق کی کہ دارالحکومت کے قریب چار ڈرونز مار گرائے گئے ہیں۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یوکرین اب روس کے قلب تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس نے کریملن کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔

نو مئی کی تقریبات صدر ولادیمیر پوتن کے دور میں روس کی فوجی طاقت کی علامت بن چکی ہیں، لیکن اس سال ان تقریبات کی شان و شوکت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ کریملن نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے 'دہشت گردی کے خطرے' کے پیشِ نظر ریڈ اسکوائر پر ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود کر دیا گیا ہے اور اس بار بھاری فوجی ساز و سامان کی نمائش نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ماسکو کے شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کئی دنوں تک موبائل انٹرنیٹ کی سروس متاثر یا بند رہے گی۔

صدر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ روس کی یہ گھبراہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب وہ یوکرین کی مرضی کے بغیر ماسکو میں پریڈ تک کرنے کے قابل نہیں رہا۔ حالیہ ہفتوں میں یوکرین نے روس کی توانائی کی تنصیبات اور تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر گہرے فضائی حملے کیے ہیں، جس سے روس کی تیل کی تجارت اور معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین کے ڈرونز اب روسی فضائی دفاع کو دھوکہ دے کر طویل فاصلے تک پرواز کرنے کے قابل ہو چکے ہیں، جیسا کہ پیر کی صبح ماسکو کی ایک بلند و بالا عمارت پر ہونے والے ڈرون حملے سے ثابت ہوا۔

فروری 2022 میں شروع ہونے والی اس مکمل جنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ روس کے مسلسل حملوں نے یوکرین کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن یوکرین نے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے دفاعی نظام اور میزائل سازی کو جدید بنایا ہے۔ صدر زیلینسکی کے مطابق، روس کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز محض ایک عارضی چال ہے تاکہ وہ اپنے جشن کے لیے وقت حاصل کر سکے، جبکہ یوکرین کا مقصد ایک دیرپا اور بامقصد امن ہے۔

اس وقت دونوں ممالک کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی یکطرفہ ہے اور کسی مشترکہ معاہدے کی عدم موجودگی میں اس کے کامیاب ہونے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ روس جہاں اپنی بقا اور وقار کی جنگ لڑ رہا ہے، وہیں یوکرین اپنی آزادی اور خودمختاری کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کر رہا ہے۔ آنے والے دن، خاص طور پر نو مئی کا دن، اس جنگ کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوگا، کیونکہ دنیا کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ کیا واقعی گولیوں کی گھن گرج تھم سکے گی یا یہ صرف ایک بڑے طوفان سے پہلے کا سکوت ہے۔

Comments