پاک ایران تعلقات؛ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا برادر ملک کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرنے کا عزم

پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے تہران روانگی سے قبل ایران کے لیے پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باقاعدہ بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ روابط کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تجارت، مواصلات (کنیکٹیویٹی)، عوامی رابطوں اور علاقائی تعاون سمیت تمام شعبوں میں باہمی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ خارجہ نے نامزد سفیر کو ہدایت کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حالیہ مثبت سفارتی لہر کو برقرار رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے سفیر کی تقرری سے دونوں برادر ممالک کے درمیان پائیدار شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطہ انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ برس فروری میں ایران اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے براہِ راست فوجی تصادم کے بعد پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی ذمہ دارانہ اور کلیدی ثالث (میڈیٹر) کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کی بدولت ہی فریقین کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔

پاکستان نے اپنی سرزمین پر 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی، جنہیں "اسلام آباد مذاکرات" کا نام دیا گیا۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا، تاہم پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کی مدت میں توسیع کر دی گئی تھی جو کہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

سفارتی حلقوں میں یہ توقعات ظاہر کی جا رہی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا اور آخری دور بھی اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک کسی بھی فریق کی جانب سے اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی، لیکن پاکستان اس حوالے سے انتہائی پرامید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت جلد ایک پائیدار امن معاہدہ طے پا جائے گا، جس کے مثبت اثرات پورے خطے بشمول پاکستان پر مرتب ہوں گے۔

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کو تہران میں ان کی نئی اور اہم ذمہ داریوں کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا۔

⬇️ Click to Read this Article in English

Dar Reaffirms Pakistan’s Commitment to Stronger Iran Ties Ahead of Envoy’s Departure


Pakistan has reaffirmed its strong commitment to deepening bilateral ties with Iran. Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar met with Pakistan’s Ambassador-designate to Iran, Imran Ahmed Siddiqui, in Islamabad ahead of the envoy's official departure for Tehran.

Official Statement by MoFA

According to a statement issued by the Ministry of Foreign Affairs (MoFA), the Deputy Prime Minister recalled the deep-rooted historical, cultural, and fraternal bonds shared between Pakistan and Iran. He reiterated Pakistan’s resolve to expand cooperation across all fields, particularly in trade, regional connectivity, people-to-people exchanges, and mutual collaboration.

Dar emphasized the importance of sustaining the current positive momentum in bilateral engagement through close diplomatic coordination. He expressed full confidence that the newly appointed ambassador would make a valuable contribution toward strengthening the enduring partnership between the two neighboring countries.

Pakistan's Strategic Role in Regional Peace

The meeting comes at a pivotal time for regional stability. Following the joint offensive launched by the US and Israel against Iran last year, and Tehran's subsequent retaliation, Pakistan positioned itself as a crucial mediator for peace. Islamabad successfully brokered a two-week ceasefire and hosted the highest-level US-Iran talks since the 1979 Islamic Revolution.

Although the "Islamabad Talks" concluded without a permanent agreement, the ceasefire held and was later extended upon Pakistan's formal request. The US and Iran are expected to hold a second and final round of peace talks in Islamabad, and Pakistan remains highly optimistic that a comprehensive peace agreement will be reached soon.

In conclusion, the foreign minister wished the ambassador-designate great success in his new diplomatic assignment in Tehran.

Comments