پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے درمیان نئے مالیاتی بجٹ 2027 کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ اگرچہ دونوں فریقین نے کئی اہم امور پر پیش رفت کی ہے، تاہم تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان (Exporters) کو ٹیکسوں میں ریلیف دینے اور 28 کھرب روپے (2.8 ٹریلین) کا پرائمری بجٹ سرپلس ہدف حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔
ٹیکس ریلیف اور آئی ایم ایف کے اعتراضات
سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومتِ پاکستان نے نئے بجٹ میں شدید معاشی دباؤ کے شکار تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس میں کمی اور برآمد کنندگان پر عائد 1 فیصد اضافی ٹیکس ختم کرنے کی رعایت مانگی تھی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا تخمینہ تھا کہ اس ریلیف سے تقریباً 200 ارب روپے کا اثر پڑے گا، جسے آئی ایم ایف نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ عالمی قرض رساں ادارے کا مؤقف ہے کہ اس ریلیف کے بدلے ریونیو پورا کرنے کے لیے حکومت نے جو متبادل پالیسیاں تجویز کی ہیں، ان کے نتائج تسلی بخش نہیں ہیں۔
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے اپنے 8 روزہ دورہِ اسلام آباد کے اختتام پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان مالیاتی سال 2027 کے لیے جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس کا ہدف برقرار رکھنے پر متفق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں بجٹ اسٹریٹجی پر بات چیت جاری رہے گی تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع اور پبلک فنانشل مینجمنٹ کو بہتر بنایا جا سکے۔ حکومتِ پاکستان 5 جون کو نیا بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اسے رواں ہفتے ہی اپنے حتمی معاشی تخمینے آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کرنے ہیں۔
ایف بی آر کی کارکردگی اور متبادل پیشکش
آئی ایم ایف نے اگلے مالیاتی سال کے لیے ایف بی آر کے 152 کھرب 64 ارب روپے (15.264 ٹریلین) کے بھاری ٹیکس ہدف کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ حکومت نے متبادل کے طور پر 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات تجویز کیے تھے، جنہیں آئی ایم ایف نے ناکافی قرار دیا ہے۔ اس پر پاکستانی حکام نے پیشکش کی ہے کہ اگر جولائی تا ستمبر کی پہلی سہ ماہی میں 30 کھرب 50 ارب روپے کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہو سکا، تو حکومت فوری طور پر منی بجٹ یا اضافی ٹیکس اقدامات نافذ کر دے گی۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایف بی آر رواں مالیاتی سال کے پہلے 10 مہینوں میں ہی اپنے ترمیمی ہدف سے 683 ارب روپے پیچھے ہے۔ دوسری جانب، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس نے رواں سال کے جولائی تا اپریل کے دوران ریکارڈ 470 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔ اس خراب کارکردگی کے بیچ ایف بی آر نے ٹیکس ادائیگیوں کے تنازع پر ملک کی سب سے بڑی یوٹیلیٹی کمپنی کے الیکٹرک (K-Electric) اور حیسکو (Hesco) کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن بھی معطل کر دی ہے، جس سے صنعتی صارفین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
توانائی کے شعبے میں نقصانات اور سبسڈیز
آئی ایم ایف نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پے در پے بیل آؤٹ پیکجز کے باوجود حکومت پاور سیکٹر اور سرکاری اداروں (SOEs) کے نقصانات کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت نے اگلے سال کے بجٹ میں سبسڈیز کے لیے تقریباً 10 کھرب (1 ٹریلین) روپے مختص کیے ہیں، جس میں سے 830 ارب روپے صرف پاور سیکٹر کو دیے جائیں گے۔ پاکستان ریلویز جیسے ادارے اب بھی ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر چل رہے ہیں اور اپنے قوانین کو اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ کے مطابق ڈھالنے سے گریزاں ہیں۔
آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ اگر پرائمری سرپلس کا ہدف مس ہوا، تو اس کی چھوٹ صرف آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے ہی ممکن ہوگی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والا بجٹ عوام کے لیے مزید سخت شرائط کا حامل ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment