دنیا بھر کے مختلف ممالک میں گزشتہ رات آسمان پر ایک انتہائی دلکش اور نایاب فلکیاتی نظارہ دیکھا گیا، جسے سائنس کی زبان میں 'بلو مون' (Blue Moon) یا نیلا چاند کہا جاتا ہے۔ اس خوبصورت منظر کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے لاکھوں فلکیاتی ماہرین اور عام شہریوں نے رات آسمان کا رخ کیا اور اس حسین لمحے کو اپنے کیمروں میں قید کیا۔ ناسا (NASA) اور دیگر خلائی اداروں کے مطابق یہ چاند اپنے عام سائز سے زیادہ بڑا اور چمکدار نظر آیا۔
'بلو مون' کیا ہے اور یہ کیوں نایاب ہے؟
سائنسی ماہرین کے مطابق 'بلو مون' کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ چاند کا رنگ حقیقت میں نیلا ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہ ایک فلکیاتی اصطلاح ہے جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی ایک ہی شمسی مہینے (Calendar Month) کے دوران دو بار پورا چاند (Full Moon) نمودار ہو۔ عام طور پر ایک ماہ میں ایک ہی بار چودھویں کا چاند نظر آتا ہے، لیکن چاند کے اپنے مدار میں گردش کے مخصوص دورانیے کی وجہ سے ڈھائی سے تین سال میں ایک بار ایسا موقع آتا ہے جب ایک ہی مہینے میں دو بار پورا چاند دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی دوسرے پورے چاند کو 'بلو مون' کا نام دیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں سحر انگیز نظارے
برطانیہ، امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے مختلف حصوں سمیت پاکستان کے بھی کئی شہروں میں مطلع صاف ہونے کے باعث چاند کا یہ نایاب روپ انتہائی واضح طور پر دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رات بھر 'Blue Moon' کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا، جہاں لوگوں نے دنیا کے مشہور تاریخی مقامات جیسے کہ لندن آئی، پیرس کے آئیفل ٹاور اور مصر کے اہرامِ مصر کے پسِ منظر میں چمکتے ہوئے چاند کی سحر انگیز تصاویر شیئر کیں۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نایاب کائناتی مناظر انسان کو کائنات کی وسعت اور اس کے خوبصورت نظام پر غور کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔

Comments
Post a Comment