برطانیہ میں بچوں کے استحصال میں ملوث گروہوں کے خلاف بڑا ایکشن؛ کروڑوں پاؤنڈ کے فنڈز جاری

برطانوی حکومت نے انگلینڈ اور ویلز میں بچوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے اور ان کے استحصال میں ملوث مجرمانہ گروہوں (گرومنگ گینگز) کے خلاف تحقیقات کے لیے فنڈز میں بھاری اضافے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، پولیس ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کی سنگینی اور وسعت کو دیکھتے ہوئے یہ رقم بھی شاید ناکافی ثابت ہو۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کے تحت، ماضی کے بند یا ادھورے رہ جانے والے کیسز کا جائزہ لینے والے ملک گیر پروگرام کے لیے بجٹ کو گزشتہ سال کے 4 ملین پاؤنڈ سے بڑھا کر تقریباً 38 ملین پاؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ برطانوی ہوم آفس کے مطابق، اس رقم کا مقصد ان گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کرنا اور ماضی میں ناکام یا بند کی جانے والی تحقیقات کو دوبارہ کھولنا ہے۔

دوسری جانب، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز کی تفتیش انتہائی پیچیدہ ہوتی ہے اور اس کے لیے ماہر ٹیموں کو کئی سال تک کام کرنا پڑتا ہے، جس پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ اس لیے خدشہ ہے کہ مختلف علاقوں کی پولیس فورسز کو طویل مدتی تحقیقات کے لیے مخصوص یونٹس قائم کرنے میں اب بھی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس معاملے پر قائم کردہ نئے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ این لانگ فیلڈ نے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ انکوائری مجرموں کے نسلی اور ثقافتی پس منظر سے جڑے حساس سوالات کا براہِ راست جائزہ لے گی۔ ماضی کی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کی ایک بڑی تعداد کا تعلق پاکستانی اور بعض دیگر ایشیائی پس منظر رکھنے والی برادریوں سے تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیشن ان وجوہات کا پتہ لگائے گا جن کی وجہ سے یہ جرائم اتنے عرصے تک جاری رہے، اور کسی بھی مشکل سوال سے پہلو تہی نہیں کی جائے گی۔

حکومت نے انٹرنیٹ اور ڈارک ویب پر سرگرم مجرموں کی جلد نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی کے لیے مزید 9 ملین پاؤنڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جدید آلات پولیس کو بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، غیر ملکی زبانوں میں موجود مواد کا ترجمہ کرنے اور مشتبہ افراد کے درمیان روابط تلاش کرنے میں مدد دیں گے۔ اس کے علاوہ آن لائن نیٹ ورکس کی نگرانی کے لیے بھی اضافی فنڈز دیے گئے ہیں جن کی مدد سے گزشتہ ایک سال میں ہزاروں بچوں کو محفوظ بنایا گیا اور سینکڑوں گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

برطانوی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے اس اسکینڈل کو برطانیہ کی تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایسے بھیانک جرائم میں ملوث افراد کے لیے ملک میں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔


⬇️ Click to Read this Article in English

UK Boosts Grooming Gang Funding Amid Police Doubts


The British government has announced a major increase in funding to investigate grooming gangs across England and Wales. However, police sources warn that the allocated money may still be insufficient to fully address the scale of the ongoing crisis.

Funding Expansion and Operational Challenges

Under Prime Minister Keir Starmer’s administration, Operation Beaconport—a nationwide review of closed child sexual exploitation cases—will see its budget rise to nearly £38 million, compared to just £4 million last year. The Home Office stated this expansion aims to strengthen investigations and reopen failed or abandoned cases. Investigators have pointed out that these reviews are highly complex, requiring large specialist teams over several years, meaning localized forces might still face long-term funding gaps.

Inquiry to Address Ethnicity and Cultural Backgrounds

Anne Longfield, the chair of the new statutory inquiry into grooming gangs, informed MPs that the panel would directly examine the ethnicity and cultural backgrounds of offenders. Previous investigations identified a disproportionate number of perpetrators from Pakistani and certain Asian heritage communities. Longfield emphasized that the inquiry would examine what allowed these systemic failures to continue without avoiding difficult conversations.

Deployment of AI and Advanced Tech

Alongside the operational funding, ministers announced an additional £9 million for artificial intelligence technology to help police identify online abusers faster. These tools will assist in data analysis, foreign language translation, and linking suspects. Home Secretary Shabana Mahmood described the grooming gang scandals as "one of the darkest moments" in Britain’s history, vowing there would be no hiding place for the perpetrators.

The implementation of high-tech solutions highlights a growing push to counter sophisticated digital evasion tactics used by modern criminal networks.

Comments