متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی مبینہ بیدخلی؛ اماراتی حلقوں کا بڑا اور اہم مؤقف سامنے آ گیا

United Arab Emirates official flag and immigration passport clearance concept

متحدہ عرب امارات (UAE) سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ بیدخلی اور ویزا پابندیوں کے حوالے سے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں گردش کرنے والی افواہوں پر اماراتی حکام اور باخبر ذرائع کا ایک انتہائی اہم اور واضح مؤقف سامنے آیا ہے۔ اماراتی حلقوں نے ان خبروں کی حقیقت واضح کرتے ہوئے پاکستان اور یو اے ای کے گہرے برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔

افواہوں کی تردید اور اماراتی قوانین کی وضاحت

اماراتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے مطابق، یو اے ای سے کسی بھی ملک کے شہریوں، بشمول پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر بیدخلی یا کسی خاص قومیت کو نشانہ بنانے کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں۔ متحدہ عرب امارات ایک قانون پسند ملک ہے جہاں تمام ویزا ہولڈرز، لیبر قوانین اور امیگریشن پالیسیاں کسی تفریق کے بغیر صرف اور صرف ملکی قوانین اور ضابطوں کے تحت چلائی جاتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جو بھی کارروائیاں کی جاتی ہیں، ان کا تعلق ویزا کی مدت ختم ہونے (Overstay)، غیر قانونی طور پر مقیم ہونے، یا مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد سے ہوتا ہے، اور اس کا کسی مخصوص ملک یا قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاک امارات تعلقات اور ورکرز کا کردار

اماراتی حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات دہائیوں پر محیط اور انتہائی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔

  • ترقی میں پاکستانیوں کا حصہ: اماراتی حکام نے تسلیم کیا کہ متحدہ عرب امارات کی تعمیر و ترقی میں پاکستانی تارکینِ وطن (Expats) نے ہمیشہ ایک کلیدی اور مثبت کردار ادا کیا ہے، اور اماراتی حکومت اس محنت کی قدر کرتی ہے۔
  • ویزوں کا باقاعدہ اجراء: اماراتی کاروباری اور سرکاری اداروں میں میرٹ پر پورا اترنے والے اور قانونی تقاضے پورے کرنے والے پاکستانیوں کو روزگار اور ویزوں کی فراہمی کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔
  • منفی پروپیگنڈے سے بچنے کی ہدایت: اماراتی اور پاکستانی سفارتی ذرائع نے دونوں ممالک کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر تصدیق شدہ خبروں اور افواہوں پر کان نہ دھریں، کیونکہ اس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات کو متاثر کرنا ہے۔

دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ افرادی قوت (Labor Force) اور امیگریشن سے متعلق تمام امور کو قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے مزید بہتر اور آسان بنایا جا سکے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Alleged Expulsion of Pakistanis from UAE: Emirati Circles Clarify Stance


A definitive stance has emerged from United Arab Emirates (UAE) official circles regarding widespread social media rumors alleging the mass expulsion and systemic visa restrictions targeted at Pakistani nationals. Emirati authorities have clarified the ground realities, dismissing the speculation and reaffirming the historic bilateral ties between the two nations.

Debunking Rumors and Upholding Legal Frameworks

Emirati circles emphasized that the Gulf nation operates strictly under comprehensive institutional, labor, and immigration laws without favoring or penalizing any specific nationality. Any recent deportations or visa cancellations are purely linked to individual violations of residency status, such as overstaying, working on illegal permits, or breaching local municipal codes, rather than a policy shift targeting Pakistani expats.

Value of Pakistani Workforce and Diplomatic Consensus

Highlighting the deep diplomatic bonds, official sources praised the immense contributions of the Pakistani diaspora in the socio-economic development and infrastructure landscape of the UAE. Legal recruitment and standard visa issuance remain operational for qualified professionals who satisfy standard immigration criteria. Both Pakistani and Emirati diplomatic channels have urged citizens to discard unsubstantiated media propaganda that aims to disrupt fraternal state relations.

Moving forward, both administrations remain committed to aligning manpower regulations and fostering transparent immigration paths for legal workers.

Comments