روس کا یوکرین پر ہائپرسونک 'اوریشکن' میزائل سے بدترین حملہ، دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر تباہی

russia-oreshnik-missile-strike-kyiv

عالمی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' اور 'ایکسپریس ٹریبیون' کی رپورٹس کے مطابق روس نے یوکرین کے خلاف جنگ کو مزید تیز کرتے ہوئے اب تک کا ایک بڑا اور ہولناک فضائی حملہ کیا ہے۔ اس جارحیت میں روس نے پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر سینکڑوں خودکش ڈرونز اور درجنوں مہلک میزائل داغے ہیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کے مطابق اس غیر معمولی اور سنسنی خیز حملے کا سب سے بڑا نشانہ دارالحکومت کیف اور اس کے گردونواح کے علاقے بنے ہیں، جہاں خوفناک دھماکوں کے نتیجے میں اب تک 4 شہری ہلاک اور 80 سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

پیوٹن کا انتقام اور ہائپرسونک ہتھیار کا استعمال

روس کی وزارتِ دفاع نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو کیے جانے والے اس حملے میں نئی نسل کا انتہائی جدید اور مہلک ہائپرسونک 'اوریشکن' (Oreshnik) بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا ہے۔ روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین پر واقع سولر اور شہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا منہ توڑ جواب ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ روز ہی مشرقی یوکرین کے روسی مقبوضہ علاقے 'اسٹاروبلسک' میں ایک طالب علم ہاسٹل پر یوکرینی ڈرون حملے کا سخت نوٹس لیا تھا، جس میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور فوج کو فوری جوابی کارروائی کا حکم دیا تھا۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق، روسی افواج نے اس مشترکہ حملے میں 90 اسٹرائیک میزائل اور 600 کے قریب خودکش ڈرونز کا استعمال کیا۔ صدر زیلینسکی نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ روس نے اس ناقابلِ تسخیر ہائپرسونک میزائل سے کیف ریجن کے شہر 'بیلا تسرکوا' کو نشانہ بنایا۔ یاد رہے کہ 'اوریشکن' میزائل آواز کی رفتار سے 10 گنا زیادہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ زمین دوز بنکرز کو بھی تباہ کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے یوکرین کا موجودہ فضائی دفاعی نظام اسے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔

رہائشی عمارتیں اور اسکول ملبے کا ڈھیر

یوکرین کی نیشنل پولیس اور ایمرجنسی سروسز کے مطابق، روسی میزائلوں نے کیف بھر میں 50 سے زائد اہم مقامات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان مقامات میں رہائشی ٹاورز، شاپنگ مالز، اسکول اور پانی کی فراہمی کی تنصیبات شامل ہیں۔ کیف کے میئر وٹالی کلیٹسکو نے بتایا کہ شہر کے وسطی ضلع شیونینکو میں ایک 5 منزلہ رہائشی عمارت پر براہِ راست میزائل گرنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔ اسی علاقے کے ایک اسکول میں بنے ایئر ریڈ شیلٹر کے باہر ملبہ گرنے سے پناہ لینے والے درجنوں شہری اندر ہی محصور ہو گئے جنہیں نکالنے کے لیے امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔

عالمی ردِعمل اور یوکرین کی دفاعی پوزیشن

یوکرین کے وزیرِ خارجہ اندری سیبیا نے اس حملے کو پرامن شہریوں کے خلاف کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے اودیسا، خارکیف اور سومی سمیت کئی صوبوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں یوکرینی سفیر نے روس کے الزامات کو پروپیگنڈا شو قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور جرمن قیادت نے بھی روس کی جانب سے ہائپرسونک ٹیکنالوجی کے اس جارحانہ استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ یوکرین نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی پیٹریاٹ سسٹم کی کمی کے باعث وہ بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

روسی فوج کی جانب سے 'اوریشکن' جیسے خطرناک ہتھیاروں کا دوبارہ استعمال اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ جنگ اب ایک طویل اور تباہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Russia Hits Ukraine with Oreshnik Hypersonic Missile in Mass Attack on Kyiv


According to reports by Reuters and The Express Tribune, Russia has launched a highly aggressive, large-scale aerial assault against Ukraine, deploying its potent hypersonic Oreshnik ballistic missile. The unprecedented overnight barrage targeted multiple major regions, primarily focusing on the capital city of Kyiv, leaving at least four people dead and more than 80 injured due to heavy structural impacts.

Retaliation with Oreshnik Hypersonic Ballistic System

The Russian Defence Ministry officially confirmed the strategic employment of the newly developed Oreshnik hypersonic ballistic missile during the assault. Moscow justified the calculated escalation as a direct retaliation for recent Ukrainian strikes targeting civilian facilities on Russian soil. President Vladimir Putin had ordered instantaneous military retaliation following a fatal drone strike on a student dormitory in Russian-occupied Starobilsk that resulted in 21 casualties.

Ukraine's air force detected a massive synchronized wave comprising 90 offensive missiles and nearly 600 strike drones launched across various platforms. President Volodymyr Zelensky noted via Telegram that the Oreshnik missile—noted for traveling at Mach 10 and bypassing standard Western-supplied air defenses—made its impact in the city of Bila Tserkva within the Kyiv region.

Severe Infrastructure Damage Across Kyiv

Ukraine's emergency and law enforcement services reported extensive structural damage spanning 50 locations across several districts of the capital. High-rise residential apartments, commercial shopping centers, public schools, and critical water supply installations were directly hit. In the central Shevchenko district, a five-story residential complex caught fire after being struck, resulting in immediate civilian deaths, while falling debris temporarily trapped citizens sheltering inside a nearby school.

Global Condemnation and Defense Shortages

Ukrainian Foreign Minister Andrii Sybiha condemned the offensive, which also caused widespread destruction across regions like Odesa, Kharkiv, and Sumy. At an emergency UN Security Council meeting, the Ukrainian ambassador firmly dismissed Moscow's claims as wartime propaganda. Meanwhile, European leaders, including France's Emmanuel Macron, issued strong statements condemning the aggressive deployment of unstoppable hypersonic weaponry as a severe escalation.

The critical incident highlights Ukraine's pressing shortage of advanced anti-ballistic interceptors, such as the US-made Patriot systems, amid intensifying regional combat.

Comments