خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایران و امریکہ کے درمیان جنگ کے بادل منڈلانے کے بعد، سعودی عرب نے خاموشی توڑ دی ہے۔ منگل کے روز سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک باقاعدہ بیان جاری کیا ہے جس میں تمام فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے واضح طور پر پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی ہے تاکہ اس تنازع کا کوئی سیاسی حل نکالا جا سکے اور خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
سعودی عرب کا یہ بیان پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریاض ان تمام سفارتی کوششوں کا حامی ہے جو پاکستان کی نگرانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ہیں۔ سعودی عرب کے مطابق، اگر ان کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا تو پورا خطہ ایک ایسی عدم استحکام کی دلدل میں پھنس جائے گا جس سے نکلنا ناممکن ہوگا، اور یہ نہ تو خطے کے مفاد میں ہے اور نہ ہی عالمی امن کے لیے بہتر ہے۔
سعودی عرب نے خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی پر زور دیا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بحری راستوں کو جنگ سے پہلے والی صورتحال پر واپس لایا جائے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔ سعودی حکام نے بحری جہازوں کے محفوظ اور بلا تعطل گزرنے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی پابندی یا رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔
سعودی عرب کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پیر کے روز خلیج میں صورتحال اچانک بگڑ گئی۔ متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اماراتی حدود میں پندرہ میزائل اور چار ڈرونز داغے ہیں۔ دوسری طرف تہران کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف وارننگ شاٹس فائر کیے تھے کیونکہ امریکی تباہ کن بحری جہازوں نے انتباہ کے باوجود آبنائے ہرمز کے قریب اشتعال انگیزی جاری رکھی تھی۔
خطے میں کشیدگی کا یہ تازہ سلسلہ رواں سال اٹھائیس فروری سے شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں کیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیج میں موجود امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تھا، جس سے عالمی تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی۔
پاکستان کی کوششوں سے آٹھ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ اس کے باوجود، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں کسی مقررہ وقت کے بغیر توسیع کر دی تھی، جس سے سفارت کاری کے لیے کچھ وقت مل گیا تھا۔ سعودی عرب اب اسی عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ سعودی عرب کا موقف واضح ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ریاض کی جانب سے پاکستانی ثالثی کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا اس بحران کا پرامن حل چاہتی ہے۔

Comments
Post a Comment