مقبول ہالی ووڈ اداکار خاویر باردیم (Javier Bardem) نے کانز فلم فیسٹیول کے دوران اپنی نئی نفسیاتی ڈراما فلم 'دی بیلووڈ' (The Beloved) کی تشہیر کے موقع پر معاشرے میں بڑھتے ہوئے زہریلے مردانہ رویوں (Toxic Masculinity)، عالمی سیاست اور میڈیا کنٹرول پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے فلم کے موضوعات کو سماجی مسائل، بالخصوص خاندانوں میں غیر حاضر باپ اور جذباتی نقصان کے چکروں سے جوڑا۔
زہریلی مردانگی اور خواتین پر تشدد کی مذمت
فیسٹیول میں گفتگو کرتے ہوئے باردیم نے اسپین اور دیگر ممالک میں مردانگی کے حوالے سے جڑ پکڑنے والے ثقافتی رویوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جارحانہ رویوں کو روزمرہ کی گفتگو میں معمول کا حصہ بنا دیا جاتا ہے، جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے معاشرے پر زور دیا کہ وہ روایتی طاقت کے نام پر مردوں کے تباہ کن رویوں کو معاف کرنا بند کرے اور مردوں کو ان کے اعمال کا جوابدہ بنایا جائے۔
اداکار نے فلم میں ایک ایسے عمر رسیدہ فلم ساز کا کردار ادا کیا ہے جو نشے کی لت کا شکار ہے اور اپنی بیٹی کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہیں۔ فلم میں تین خواتین اس کے سامنے آتی ہیں جو اسے ماضی کی غلطیوں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جو کہ موجودہ سماجی حقیقتوں کی عکاسی ہے۔
عالمی سیاست اور میڈیا کنٹرول پر وار
خاویر باردیم نے اپنے بیان کا دائرہ کار عالمی سیاست تک پھیلاتے ہوئے دنیا کے کئی رہنماؤں اور اقتدار کے نظام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر طاقت کا جارحانہ مظاہرہ دنیا میں عدم استحکام اور تشدد کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میڈیا مالکان کی اجارہ داری اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں (سوشل میڈیا پلیٹ فارمز) کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ الگورتھم کے تحت چلنے والا نظام اور سستی معلومات نوجوان نسل میں تنقیدی سوچ کو ختم کر رہی ہیں، جس سے معاشرے میں نفرت اور تقسیم بڑھ رہی ہے۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو یہ جمہوری نظام کو کمزور کر دے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ فنکاروں اور فلموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی کہانیاں سامنے لائیں جو معاشرے کو تلخ سچائیوں کا آئینہ دکھا سکیں۔
کانز فلم فیسٹیول میں خاویر باردیم کے اس جرات مندانہ بیان کو عالمی میڈیا پر بھرپور توجہ مل رہی ہے اور اسے ایک اہم سماجی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Javier Bardem Calls Out Toxic Masculinity at Cannes Over ‘The Beloved’ Role
Hollywood actor Javier Bardem spoke extensively about masculinity, politics, and media control during the Cannes Film Festival while promoting Rodrigo Sorogoyen’s psychological drama 'The Beloved'. In the film, he plays an aging filmmaker struggling with addiction and a fractured relationship with his daughter.
Criticism on Toxic Masculinity and Violence
Speaking at the festival, Bardem reflected on deeply rooted cultural attitudes toward masculinity in Spain and beyond. He pointed out patterns of violence against women, stating that such destructive behavior is often normalized in everyday discourse. He framed the film as part of a broader conversation about male responsibility, accountability, and the way societies excuse harmful actions when tied to traditional male power.
Geopolitics and Media Monopoly
Bardem also broadened his remarks to global politics, criticizing leaders and systems of authority for their aggressive displays of power. Furthermore, he raised concerns about the concentration of media ownership and algorithm-driven technology platforms, warning that simplified content formats reduce space for nuanced debate, encourage polarization, and potentially weaken democratic discussion among younger audiences.
Ultimately, Bardem emphasized the responsibility of cinema and artists to highlight uncomfortable truths by focusing on personal stories that reflect wider social realities.
Comments
Post a Comment