حکومتِ پاکستان نے ملک میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (INGOs) اور غیر ملکی این جی اوز کی مانیٹرنگ اور رجسٹریشن کے عمل کو مزید شفاف اور سخت بنانے کے لیے قوانین میں بڑی ترمیم کر دی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت اب کسی بھی غیر ملکی این جی او کے لیے پاکستان کے ٹیکس اور انتظامی نظام میں رجسٹریشن یا ای-انرولمنٹ (e-Enrolment) حاصل کرنے کے لیے کڑی شرائط کا سامنا کرنا ہوگا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں کام کرنے والی بیرونی تنظیموں کی مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانا اور ان کی جانچ پڑتال کے نظام کو مضبوط کرنا ہے۔
وزارتِ داخلہ کا این او سی اور ایم او یو لازمی قرار
ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس رولز 2002 میں کی جانے والی ان ترامیم کے تحت اب تمام بین الاقوامی این جی اوز کے لیے رجسٹریشن کے وقت وزارتِ داخلہ (Ministry of Interior) سے حاصل کردہ این او سی (No Objection Certificate) جمع کروانا لازمی ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتِ پاکستان کے ساتھ باقاعدہ دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) فراہم کرنا بھی لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔ ان دستاویزات کے بغیر کسی بھی غیر ملکی تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تنظیموں کے مالکان اور ڈائریکٹرز کی اسکریننگ
نئے قوانین کے تحت اب ان تنظیموں کو اپنے اندرونی نظم و ضبط اور گورننس اسٹرکچر کی تمام تفصیلات بھی حکومت کے سامنے کھول کر رکھنی ہوں گی۔ کسی بھی غیر ملکی این جی او کے ڈائریکٹرز، ٹرسٹیز، پارٹنرز اور 10 فیصد یا اس سے زائد کی ملکیت یا اثر و رسوخ رکھنے والے تمام افراد کے نام، قومیت، پاسپورٹ کی تفصیلات اور ان کا مکمل ڈیٹا فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ان تنظیموں کو اپنے آبائی ملک کی رجسٹریشن دستاویزات متعلقہ سفارت خانے (Embassy) سے تصدیق کروا کر پیش کرنی ہوں گی، جبکہ پاکستان میں ان کی موجودگی کے ثبوت کے طور پر دفتری کرایہ نامے اور یوٹیلٹی بلز بھی چیک کیے جائیں گے۔
معاشی استحکام اور اداروں کی مضبوطی
ٹیکس ماہرین اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدامات فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے قوانین کی پاسداری اور منی لانڈرنگ یا غیر قانونی فنڈنگ کے راستے روکنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کا ماننا ہے کہ ملکی معاشی استحکام براہِ راست اداروں کی مضبوطی اور سخت قوانین کے نفاذ سے جڑا ہوا ہے۔ ان نئے قوانین کے لاگو ہونے سے جہاں بیرونی فنڈز کے درست استعمال کی مانیٹرنگ آسان ہوگی، وہاں سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی نظام کو فول پروف بنانے میں مدد ملے گی۔
حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس قوانین میں ترمیم کا یہ ڈرافٹ باقاعدہ قانونی عمل اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد مکمل طور پر نافذ العمل کر دیا جائے گا۔

Comments
Post a Comment