برطانیہ کی خفیہ ایجنسی 'ایم آئی سکس' (MI6) کے سابق سربراہ رچرڈ ڈیرلوو نے ایک سنگین انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں تعینات برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن کے روس، چین اور اسرائیل کی اعلیٰ شخصیات کے ساتھ تعلقات سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات کو قابو کرنا "مکمل طور پر ناممکن" تھا۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی وارننگ کے باوجود مینڈلسن کو اہم سفارتی عہدے کے لیے کلیرنس کیسے دے دی گئی۔
روس اور چین کے ساتھ مشکوک روابط
برطانوی میڈیا کے مطابق، سرکاری ویٹنگ ایجنسی (UKSV) نے واضح سفارش کی تھی کہ پیٹر مینڈلسن کو حساس دستاویزات تک رسائی (Vetting Clearance) نہ دی جائے، کیونکہ ان کے روابط چین کے وزیرِ خزانہ لان فوآن، پابندیوں کا شکار روسی کاروباری شخصیت اولیگ ڈیرپاکسا اور اسرائیلی فوج کے سابق انٹیلیجنس جنرل تامیر ہیمن کے ساتھ پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک برطانوی شہری کے ساتھ ان کے انتہائی قریبی تعلقات اور ایک اسرائیلی اسٹارٹ اپ کے لیے 10 لاکھ پاؤنڈ کا قرضہ لینے پر بھی سیکیورٹی خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
ان سنگین ترین خطرات کے باوجود وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اولی روبنز نے سیکیورٹی سفارشات کو نظرانداز کرتے ہوئے مینڈلسن کو کلیرنس جاری کر دی۔ سابق MI6 چیف کا کہنا ہے کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ ایسے سفیر کو واشنگٹن بھیج کر حساس ترین دستاویزات سے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ عملی طور پر ناممکن ہے۔
حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام
اس انکشاف کے بعد برطانوی پارلیمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ لبرل ڈیموکریٹس اور شیڈو فارن سیکریٹری پریتی پٹیل نے الزام لگایا ہے کہ ڈاؤننگ اسٹریٹ مینڈلسن کے روس، چین اور بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ روابط سے اچھی طرح واقف تھی، لیکن برطانوی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر یہ تقرری کی گئی۔ پارلیمنٹ میں حکومت پر اہم ترین دستاویزات کو چھپانے اور سیکیورٹی فائلز کو سنسر کرنے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے جس سے سیاسی بحران گہرا ہو گیا ہے۔
برطانوی حکومت اگلے ماہ اس تقرری سے جڑی تمام دستاویزات پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی پابند ہے، جس کے بعد اس ہائی پروفائل اسکینڈل کے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

Comments
Post a Comment