اسنوکر کا نیا عالمی چیمپئن: وو ییزے(Wu Yize) کی تاریخی فتح، غربت سے شہرت تک کا سفر اور ماں کی قربانیوں کی جذباتی داستان

 
Wu Yize celebrating his Snooker World Championship win at the Crucible Theatre, holding the trophy with pride.
Wu Yize with Trophy

اسنوکر کا نیا عالمی چمپئن اور ایک عظیم جدوجہد 

خصوصی رپورٹ: ڈیلی حلیف 

تعارف: اسنوکر کی دنیا کا نیا بادشاہ

اسنوکر کی دنیا کو ایک نیا سپر اسٹار مل گیا ہے۔ چین سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھلاڑی وو ییزے نے شیفیلڈ کے مشہور کروسیبل تھیٹر میں کھیلے گئے ایک سنسنی خیز فائنل میں سابق عالمی چیمپئن شان مرفی کو 17 کے مقابلے میں 18 فریمز سے شکست دے کر پہلی بار عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ یہ کامیابی محض ایک کھیل کی جیت نہیں ہے بلکہ یہ اس مسلسل محنت اور ان لاتعداد قربانیوں کا نتیجہ ہے جو اس نوجوان اور اس کے خاندان نے گزشتہ کئی برسوں میں دیں۔

گھر سے دور، خوابوں کے قریب

وو ییزے کا تعلق چین کے شہر لانڑو سے ہے۔ جب ان کی عمر محض 16 برس تھی، تو وہ اپنے والد کے ہمراہ اپنا گھر بار چھوڑ کر برطانیہ منتقل ہو گئے تاکہ اسنوکر کی دنیا میں اپنا نام بنا سکیں۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ اس وقت ان کی والدہ کی طبیعت انتہائی ناساز تھی، لیکن ان کی والدہ نے خود اپنی تکلیف کو پسِ پشت ڈال کر بیٹے کو اپنے خواب پورے کرنے کے لیے بیرونِ ملک بھیجا۔

ماں کی عظیم قربانی اور عزم کی داستان

عالمی چمپئن بننے کے بعد ایک جذباتی گفتگو میں وو ییزے نے بتایا کہ ان کی والدہ طویل عرصے سے اسپتال میں زیرِ علاج رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، "میری ماں میری طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ جب میں برطانیہ میں اپنے کیریئر کی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا، وہ چین میں اسپتال کے بستر پر تھیں لیکن انہوں نے مجھے ہمیشہ یہی کہا کہ 'بیٹا واپس مت آنا، میں سب کچھ سنبھال لوں گی، تم بس اپنے کھیل پر توجہ دو'۔" وو نے بتایا کہ ان کی درجہ بندی (رینکنگ) اس وقت بہت کم تھی اور اگر وہ اس وقت محنت نہ کرتے تو ان کا پیشہ ورانہ کیریئر ختم ہو سکتا تھا۔

 غربت اور کٹھن حالات میں زندگی

کامیابی کا یہ سفر پھولوں کی سیج نہیں تھا۔ برطانیہ میں قیام کے دوران وو ییزے اور ان کے والد شیفیلڈ شہر کے ایک ایسے چھوٹے سے فلیٹ میں رہے جہاں کوئی کھڑکی تک نہیں تھی، اور دونوں باپ بیٹا ایک ہی بستر پر سوتے تھے۔ ان کے پاس وسائل کی شدید کمی تھی، لیکن اسنوکر کے لیے جنون نے انہیں ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا۔

 کھیل کا نیا انداز اور ماہرین کی رائے

وو ییزے کا کھیل روایتی اسنوکر سے بہت مختلف ہے۔ وہ انتہائی جارحانہ انداز میں کھیلتے ہیں اور مشکل ترین شاٹس لینے سے نہیں گھبراتے۔ اسنوکر کے لیجنڈ کھلاڑی رونی او سلیوان اور اسٹیو ڈیوس نے پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ یہ نوجوان مستقبل کا عالمی چیمپئن بنے گا۔ اسٹیو ڈیوس کے مطابق، "وو ییزے اسنوکر کا چہرہ بدل رہے ہیں، اب سیفٹی شارٹس کا دور گزر رہا ہے اور جارحانہ کھیل ہی جیت کی ضمانت ہے۔" اسٹیفن ہینڈری نے بھی ان کے بے خوف انداز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر صرف کھیل کا لطف اٹھاتے ہیں۔

 چین میں اسنوکر کا انقلاب

وو ییزے کی اس فتح نے چین میں اسنوکر کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ فائنل کے دوران چین میں 10 کروڑ سے زائد افراد نے ٹی وی پر یہ مقابلہ دیکھا۔ پچھلے سال ڑاو¿ زن ٹونگ کی جیت اور اب وو ییزے کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسنوکر کی دنیا کا مرکز اب برطانیہ سے ایشیا کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ چین کے شہر لانڑو کے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے، جہاں کھیلوں کی اتنی بڑی روایات موجود نہیں تھیں۔

 عالمی درجہ بندی (رینکنگ) میں بڑی چھلانگ

اس عالمی ٹائٹل کی جیت نے وو ییزے کو عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر پہنچا دیا ہے۔ یہ ان کے کیریئر کی اب تک کی سب سے بہترین پوزیشن ہے۔ گزشتہ سیزن میں دنیا کے پانچ بہترین کھلاڑی تمام کے تمام برطانوی تھے، لیکن اب یہ صورتحال بدل چکی ہے۔ چین کے اب پانچ کھلاڑی ٹاپ 16 میں شامل ہیں، جو اس کھیل میں چینی بالادستی کا واضح اشارہ ہے۔

 پرانی نسل بمقابلہ نئی نسل

اسنوکر کی دنیا میں 1992 کے مشہور کھلاڑی (رونی او سلیوان، جان ہِگنز اور مارک ولیمز) اب اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ان کی جگہ اب وو ییزے اور ڑاو¿ زن ٹونگ جیسے نوجوان کھلاڑی لے رہے ہیں جو ان سے تقریباً 30 سال چھوٹے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم اسنوکر کی تاریخ میں 'نسل کی تبدیلی' (Changing of the Guard) کے گواہ بن رہے ہیں۔ نئے کھلاڑیوں میں نہ صرف ٹیلنٹ زیادہ ہے بلکہ وہ ان پرانے سورماو¿ں کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

 چیلنجز اب بھی باقی ہیں

اگرچہ چینی کھلاڑیوں نے اس سیزن میں 23 میں سے 7 ایونٹس جیتے ہیں، لیکن برطانوی کھلاڑی مارک سیلبی اور کائرن ولسن اب بھی بڑے حریف کے طور پر موجود ہیں۔ انہوں نے اس سیزن کے دو بڑے ٹورنامنٹ جیتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چینی کھلاڑیوں کو مکمل بالادستی حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید سخت مقابلے کرنے ہوں گے۔

 ایک روشن مستقبل

وو ییزے (Wu Yize) کی کہانی صرف ایک کھیل کی جیت نہیں بلکہ ایک خاندان کی بے لوث محبت اور قربانی کی داستان ہے۔ ان کا عالمی چیمپئن بننا دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے پیغام ہے کہ اگر آپ کے پاس عزم ہو اور آپ کے والدین کی دعائیں ساتھ ہوں، تو کھڑکی کے بغیر ایک چھوٹے سے کمرے سے نکل کر بھی دنیا فتح کی جا سکتی ہے۔ وو اب اپنی والدہ کو مزید وقت اپنے پاس برطانیہ میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی کامیابیوں کا جشن ان کے ساتھ منا سکیں۔


Comments