ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے دوران کارروائی کا شبہ
بحری اور میری ٹائم حکام کا کہنا ہے کہ آئل مصنوعات لے جانے والے اس ٹینکر پر آگ لگنے کی ممکنہ وجہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے لیے کی جانے والی امریکی فوجی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری تجارتی گزرگاہیں شدید عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہیں اور اس تازہ حملے نے مشرقِ وسطیٰ کے بحری راستوں پر ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، متاثرہ آئل ٹینکر پر مجموعی طور پر 28 افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا، جن میں سے اکثریت یعنی 24 افراد کا تعلق بھارت سے تھا۔ واقعے کے فوری بعد بین الاقوامی بحری امدادی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے عملے کے دیگر ارکان کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں، تاہم انجن روم میں لگی آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے پورے جہاز کو لپیٹ میں لے لیا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کا باقاعدہ ردِعمل
اس ہائی پروفائل بحری واقعے پر نئی دہلی میں بھارتی وزارتِ خارجہ نے بھی باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔ واقعے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- ملاحوں کی گمشدگی: بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد سے لاپتہ ہونے والے 3 بھارتی ملاحوں کی تلاش تاہمی جاری ہے اور ریسکیو حکام عمان کے ساحل کے قریب تلاشی کا کام کر رہے ہیں۔
- محفوظ انخلا: ٹینکر پر موجود 21 دیگر بھارتی ملاحوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے بحفاظت بچا لیا گیا ہے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
- سیکیورٹی خدشات: بھارتی حکومت خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے بحری حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
عمان کے ساحل پر ہونے والا یہ حملہ بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ اور امریکہ-ایران کشیدگی کے تناظر میں ایک خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment