سندھ پولیس کی بڑی کامیابی: 1 کروڑ انعام یافتہ ڈاکو بیلو تیغانی سمیت 60 جرائم پیشہ افراد کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
بیلو تیغانی 102 سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، ایس ایس پی کلیم ملک
ایس ایس پی شکارپور کلیم ملک نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سرنڈر کرنے والا مرکزی ڈاکو بیلو تیغانی قتل، اقدامِ قتل، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی جیسے 102 سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔ اس کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث حکومت کی جانب سے اس کے سر پر 1 کروڑ روپے کا بھاری انعام مقرر کیا گیا تھا۔ ایس ایس پی کے مطابق، بیلو تیغانی کے ساتھ سرنڈر کرنے والے تمام 60 افراد انتہائی خطرناک اور کچے کے بدنام زمانہ گینگز کا حصہ ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے ان ڈاکوؤں کا تعلق بڈانی، سبزوئی اور کچے کے دیگر بدنام ترین گینگز سے ہے، جو طویل عرصے سے سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں دہشت کی علامت بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے کئی دیگر ڈاکوؤں کی گرفتاری پر بھی حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے کے انعامات مقرر تھے۔ ایس ایس پی کلیم ملک نے واضح کیا کہ ہتھیار ڈالنے کے باوجود ان تمام ملزمان کے ساتھ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور تمام مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
کچے میں امن کی بحالی کی طرف بڑا قدم
شکارپور پولیس کے مطابق اس بڑے سرنڈر کے بعد کچے کے دیگر ڈاکوؤں کے حوصلے پست ہو چکے ہیں۔ اس آپریشن اور ہتھیار ڈالنے کے واقعے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- مطلوب ترین گینگز کا خاتمہ: بڈانی اور سبزوئی جیسے بدنامِ زمانہ گینگز کے اہم کارندوں کے ہتھیار ڈالنے سے کچے میں جرائم کا نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوا ہے۔
- لاکھوں کے انعام یافتہ ملزمان گرفتار: بیلو تیغانی کے علاوہ سرنڈر کرنے والے دیگر ڈاکوؤں کے سروں پر بھی حکومت کی طرف سے لاکھوں روپے کے انعامات تھے۔
- قانونی کارروائی کا آغاز: پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرنڈر کرنے والے تمام ڈاکوؤں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
کچے کے علاقے سے بیلو تیغانی جیسے بڑے نام کا اپنے ساتھیوں سمیت سرنڈر کرنا سندھ پولیس کی بڑی اسٹریٹجک کامیابی اور علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔

Comments
Post a Comment