"انسیل" نظریہ، 104 صفحات کا منشور اور ہولناک ہدف
اس واقعے نے اس وقت مزید ہولناک شکل اختیار کر لی جب ایک رائٹ ونگ میڈیا آؤٹ لیٹ نے حملہ آور کا 104 صفحات کا طویل منشور (Manifesto) آن لائن لیک کر دیا۔ اس دستاویز میں کینیڈین معاشرے، خواتین (Feminism)، لبرل ازم اور سرمایہ دارانہ نظام کو شدید نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملہ آور نے مردوں کی تنہائی اور سماجی تنزلی کا غصہ نکالنے کے لیے "نئی خونی جنگ" کی اپیل کی ہے۔ کینیڈا کی فیڈرل پولیس نے ملک بھر کی ایجنسیوں کو الرٹ جاری کر دیا ہے کہ اس منشور کو دیکھ کر مزید "کاپی کیٹ" (دیکھا دیکھی) حملے ہو سکتے ہیں، اس لیے انتہائی الرٹ رہا جائے۔
حملہ آور نے اپنے منشور میں جن اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، ان میں بڑے سرمایہ کار بینک، بااثر سیاستدان، مطلوبہ کارپوریٹ ایگزیکٹوز، پلاسٹک سرجنز اور کرپٹو کرنسی کے کاروباری لوگ شامل ہیں۔ منشور کا اختتام ان ہولناک الفاظ پر ہوتا ہے: "بغیر ہچکچاہٹ آگے بڑھو، اور ان سب کو قتل کر دو!" کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی اور کیوبک کی پریمیئر کرسٹین فریچیٹ نے واقعے پر شدید صدمے اور ملامت کا اظہار کرتے ہوئے پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: انٹرنیٹ کی تنہائی اور بڑھتی ہوئی آن لائن انتہا پسندی
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ مغربی ممالک اب کسی بیرونی خطرے سے زیادہ اپنے ہی اندرونی نظریاتی کینسر کا شکار ہو رہے ہیں۔ "انسیل" (Involuntary Celibacy) نامی یہ آن لائن تحریک بظاہر ایسے مردوں پر مشتمل ہے جو خواتین اور معاشرے سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود ڈارک فورمز اور نفرت انگیز مواد نوجوانوں کے دماغوں کو اس حد تک مفلوج کر رہے ہیں کہ وہ لائیو ہتھیار اٹھا کر معصوم شہریوں پر پل پڑتے ہیں۔ جب تک سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسی نفرت انگیز دستاویزات اور پروپیگنڈے کا راستہ نہیں روکا جائے گا، تب تک ایسے ذہنی مریض سڑکوں پر خون بہاتے رہیں گے۔
کینیڈا میں خواتین اور شہریوں پر ایسے حملوں کی ہسٹری:
کینیڈا میں اس انتہا پسندانہ سوچ اور فائرنگ کے واقعات کا پہلے بھی ایک بھیانک اور دردناک پسِ منظر رہا ہے:
- ٹورنٹو وین حملہ (2018): ایک انتہا پسند ڈرائیور نے ٹورنٹو کی سڑک پر جان بوجھ کر وین چڑھا کر 10 بے گناہ شہریوں کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا، وہ بھی اسی سوچ سے متاثر تھا۔
- ٹورنٹو اسپا حملہ (2020): ایک بیوٹی اسپا پر چاقو اور چِھری سے حملہ کر کے خاتون کو قتل کیا گیا، کینیڈین عدالتوں نے تاریخ میں پہلی بار کسی انسیل حملے کو باقاعدہ "دہشت گردی" قرار دیا تھا۔
- پولی ٹیکنیک یونیورسٹی سانحہ (1989): مونٹریال کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں ایک نوجوان سیمی آٹومیٹک رائفل لے کر داخل ہوا اور خاص طور پر خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے 14 طالبات کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جس کی یاد آج بھی کینیڈا کو تڑپاتی ہے۔
یہ حالیہ واقعہ کینیڈا کے امن پسند چہرے پر ایک بڑا داغ ہے، جہاں صرف اسی مہینے ڈیوٹی کے دوران تین پولیس افسران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کینیڈین حکومت آن لائن نفرت کو روکنے کے لیے کیا کڑے اقدامات کرتی ہے۔

Comments
Post a Comment