وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ایک خصوصی ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں گندم اور آٹے کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے گندم کے ذخائر اور مارکیٹ ریٹس سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ صوبے میں آٹے اور گندم کے نرخ مستحکم رکھنے کے لیے وزیر اعلیٰ نے پاسکو (PASCO) سے ایک ملین (10 لاکھ) میٹرک ٹن گندم خریدنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
فلور ملز کو گندم کی فراہمی اور قیمتوں کا کنٹرول
حکام کے مطابق عوام کو سستا آٹا اور سستی روٹی فراہم کرنے کے لیے حکومتِ پنجاب فلور ملوں کو **3300 روپے فی من** کے حساب سے گندم فراہم کرے گی، تاکہ اوپن مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب میں گندم کے اسٹاک کو ڈکلیئر کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اس کا مکمل ڈیٹا تیار کیا جا رہا ہے۔ اس بار فصل کا دانہ نسبتاً چھوٹا ہے، جس کے باعث غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹاک کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔
دیگر صوبوں کو گندم کی ترسیل پر بریفنگ
اجلاس میں پنجاب سے دیگر صوبوں، بالخصوص خیبر پختونخوا کو گندم کی فراہمی سے متعلق افواہوں اور تحفظات پر بھی غور کیا گیا، جس میں درج ذیل اہم باتیں سامنے آئیں:
- ترسیل روکنے کی تردید: بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پنجاب کے راستے سندھ سے کسی بھی صوبے کو گندم کی ترسیل روکنے کے شواہد حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
- شکایات کی عدم موجودگی: سندھ سے خیبر پختونخوا کو گندم کی فراہمی روکنے کی کوئی بھی شکایت اب تک رپورٹ نہیں ہوئی۔
- کے پی کے کی مدد کا عزم: اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے بعد پنجاب، خیبر پختونخوا کو گندم کی فراہمی کا اپنا فرض ہر صورت پورا کرے گا۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبے میں آٹے کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔

Comments
Post a Comment