کاروباری برادری کو بڑا ریلیف؛ وزیر اعظم کا 15 جون تک تمام ٹیکس ریفنڈز نمٹانے کا حکم

Prime Minister Shehbaz Sharif presiding over a high level budget consultative meeting with business community leaders
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر کی کاروباری برادری کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی اعلیٰ قیادت کے وفد سے ملاقات کے دوران، وزیر اعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ 15 جون تک ٹیکس ریفنڈ کے تمام زیر التوا کیسز ہر صورت نمٹائے جائیں۔ اس ملاقات میں آئندہ وفاقی بجٹ، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پرال دفتر کی منتقلی اور گجرات میں پاسپورٹ آفس کی منظوری

تاجروں اور برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے وزیر اعظم نے ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پی آر اے ایل) کا مرکزی دفتر فوری طور پر کراچی منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور مقامی تاجروں کی دیرینہ درخواست پر گجرات میں ایک نئے پاسپورٹ دفتر کے قیام کی باقاعدہ منظوری بھی دے دی گئی ہے، جس سے خطے کے تاجروں کو بڑی سفری سہولت میسر آئے گی۔

بجٹ مراعات اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم

وزیر اعظم شہباز شریف نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت کا بنیادی مشن برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہے، اور اس مقصد کے لیے آئندہ بجٹ میں صنعتی پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مزید مراعات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے بینکوں کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت پالیسی ریٹ میں اضافے کے باوجود ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح کو جون 2027 تک 4.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔ مزید برآں، انہوں نے مقامی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ جوائنٹ وینچرز کے ذریعے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی مقامی پیداوار کو بڑھائیں۔

کاروباری برادری کا حکومتی اقدامات پر اعتماد

ملاقات میں ایف پی سی سی آئی سمیت کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، سرحد، کوئٹہ، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ چیمبرز کے صدور اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد بھی موجود تھے۔ تاجر برادری کے نمائندوں نے معاشی استحکام کے لیے حکومت اور عسکری قیادت کی سفارتی کاوشوں کو سراہا اور "وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام" سمیت ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای-انوائسنگ جیسے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

حکومت کی ان نئی ہدایات کے بعد تاجروں کے اربوں روپے کے پھنسے ہوئے ریفنڈز کی فوری ادائیگی کا راستہ صاف ہو گیا ہے، جس سے مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہونے کی امید ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

PM Shehbaz Orders FBR to Clear All Pending Tax Refunds by June 15


In a major relief to the country's business community, Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif has directed the Federal Board of Revenue (FBR) to resolve all pending tax refund cases by June 15. The directive was issued during a high-level consultative meeting with the leadership of the Federation of Pakistan Chambers of Commerce and Industry (FPCCI) and regional chambers to discuss the upcoming federal budget, industrial growth, and export expansion.

PRAL Office Relocation and Gujrat Passport Office Approved

To enhance ease of doing business, the Prime Minister ordered the immediate relocation of the Pakistan Revenue Automation Limited (PRAL) central headquarters to Karachi. Addressing the long-standing demands of overseas Pakistanis and traders, PM Shehbaz also sanctioned the immediate establishment of a new regional passport office in Gujrat to facilitate regional commerce and travel documentation.

Fiscal Incentives and Export Re-financing Continuity

The Prime Minister assured the industrial sectors that the upcoming fiscal framework will incorporate dedicated incentives to maximize manufacturing output. He highly appreciated the banking sector's decision to lock the Export Refinance Scheme rate at 4.5% until June 2027 despite fluctuating policy rates. He further urged local business groups to initiate joint ventures for the domestic production of Electric Vehicles (EVs).

The corporate delegation, comprising presidents from Karachi, Lahore, Sialkot, and other major chambers, appreciated the FBR’s digital transformations, including e-invoicing, and pledged their complete alignment with the government's economic consolidation framework.

Comments