تنخواہ دار طبقے کو 50 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف اور نئے سلیبس
ذرائع کے مطابق، نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک کا انکم ٹیکس ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا سکتی ہے، جس کے تحت ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ تجویز کے مطابق، ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تک کی آمدن پر ٹیکس شرح 25 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جائے گی، جس سے 4 لاکھ سے زائد ملازمین مستفید ہوں گے۔ تاہم، 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رہے گا۔
دوسری جانب، بجٹ میں عوام دوست فیصلہ کرتے ہوئے سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور اسٹیشنری پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز کو بجٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ تاہم، درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار ہونے والی ای ویز کو سستا کرنے کے لیے پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس صرف 1 فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ روایتی ایندھن والی بڑی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگنے سے وہ مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔
اہم معاشی اہداف، ترقیاتی بجٹ اور نئے ٹیکس اقدامات
بجٹ میں مجموعی ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی سے 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔ بجٹ کے دیگر اہم ترین معاشی اہداف اور تفصیلات درج ذیل ہیں:
- دفاع اور قرضوں پر سود: قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے جبکہ دفاعی شعبے کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
- روزگار کے مواقع: حکومت نے معیشت میں روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہے، جس میں خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعت میں 5 لاکھ اور زراعت میں 4 لاکھ ملازمتیں شامل ہیں۔
- ترقیاتی پلان اور کٹوتیاں: قومی اقتصادی کونسل (NEC) نے 3 ہزار 669 ارب روپے کا ترقیاتی پلان منظور کیا ہے، جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی (PSDP) کا حجم 1000 ارب روپے ہوگا۔ صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی گئی ہے اور دفاع و داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
- کرپٹو ٹریڈنگ اور اشیائے خورونوش پر ٹیکس: کرپٹو کرنسی سے حاصل منافع پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کرنے کے لیے انکم ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کیچپ اور کوکنگ آئل جیسی اشیاء پر پرچون قیمت (Retail Price) پرنٹ کرنا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔
بجٹ میں جہاں ایک طرف تنخواہ دار طبقے اور سولر انڈسٹری کو تحفظ دیا گیا ہے، وہیں تجارتی خسارے کا تخمینہ 37 ارب ڈالر لگایا گیا ہے کیونکہ درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر اور برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر متوقع ہے۔

Comments
Post a Comment