پاکستان کا 17.5 ٹریلین روپے حجم کا وفاقی بجٹ کل پیش ہوگا' بڑے ریلیف کا امکان

Finance Minister Muhammad Aurangzeb and PM Shehbaz Sharif finalizing the federal budget of Pakistan
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کا 17.5 ٹریلین (17 ہزار 500 ارب) روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ کل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوگا، جس میں بجٹ مسودے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی باقاعدہ منظوری دی جائے گی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے فوری بعد وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب یہ بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔

تنخواہ دار طبقے کو 50 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف اور نئے سلیبس

ذرائع کے مطابق، نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک کا انکم ٹیکس ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا سکتی ہے، جس کے تحت ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ تجویز کے مطابق، ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تک کی آمدن پر ٹیکس شرح 25 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جائے گی، جس سے 4 لاکھ سے زائد ملازمین مستفید ہوں گے۔ تاہم، 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رہے گا۔

دوسری جانب، بجٹ میں عوام دوست فیصلہ کرتے ہوئے سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور اسٹیشنری پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز کو بجٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ تاہم، درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار ہونے والی ای ویز کو سستا کرنے کے لیے پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس صرف 1 فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ روایتی ایندھن والی بڑی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگنے سے وہ مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔

اہم معاشی اہداف، ترقیاتی بجٹ اور نئے ٹیکس اقدامات

بجٹ میں مجموعی ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی سے 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔ بجٹ کے دیگر اہم ترین معاشی اہداف اور تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • دفاع اور قرضوں پر سود: قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے جبکہ دفاعی شعبے کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
  • روزگار کے مواقع: حکومت نے معیشت میں روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہے، جس میں خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعت میں 5 لاکھ اور زراعت میں 4 لاکھ ملازمتیں شامل ہیں۔
  • ترقیاتی پلان اور کٹوتیاں: قومی اقتصادی کونسل (NEC) نے 3 ہزار 669 ارب روپے کا ترقیاتی پلان منظور کیا ہے، جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی (PSDP) کا حجم 1000 ارب روپے ہوگا۔ صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی گئی ہے اور دفاع و داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
  • کرپٹو ٹریڈنگ اور اشیائے خورونوش پر ٹیکس: کرپٹو کرنسی سے حاصل منافع پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کرنے کے لیے انکم ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کیچپ اور کوکنگ آئل جیسی اشیاء پر پرچون قیمت (Retail Price) پرنٹ کرنا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔

بجٹ میں جہاں ایک طرف تنخواہ دار طبقے اور سولر انڈسٹری کو تحفظ دیا گیا ہے، وہیں تجارتی خسارے کا تخمینہ 37 ارب ڈالر لگایا گیا ہے کیونکہ درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر اور برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر متوقع ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Federal Budget 2026-27 Worth Rs 17.5 Trillion to be Presented Tomorrow; Relief for Salaried Class Expected


ISLAMABAD: The federal government is set to present the national budget for the upcoming fiscal year 2026-27 tomorrow, with a total outlay exceeding Rs 17.5 trillion. Prior to the parliament session, PM Shehbaz Sharif will chair a special cabinet meeting to approve the budget draft, which includes a salary and pension hike for government employees and an income tax relief package worth Rs 50 billion for the salaried class.

Tax Framework, Solar Panels, and EVs

The revenue collection target is projected at Rs 15,267 billion. In a major relief, proposals to increase sales tax on solar panels and stationery items have been dropped. However, sales tax on imported Electric Vehicles (EVs) may rise to 25%, while locally manufactured EVs will receive massive tax holidays. Furthermore, the government plans to introduce a Capital Gains Tax (10% to 30%) on Crypto trading profits.

Key Economic Allocations

The proposed budget allocates Rs 7,824 billion for debt servicing and nearly Rs 3,000 billion for defense. The government aims to create 2 million new jobs across services, industrial, and agricultural sectors. Meanwhile, the trade deficit is estimated to remain above $37 billion, with imports projected at $70 billion against an export target of $32.8 billion.

Comments