لاہور میں سفاکیت کی انتہا؛ دم کروانے کے بہانے 18 سالہ سوتیلی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا باپ گرفتار
ہوٹل کے کمرے میں درندگی اور سنگین دھمکیاں
ایس پی کینٹ اختر نواز کے مطابق، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے فوری ایکشن لیا۔ ایس ایچ او ڈیفنس اے محمد افضال نے نفری کے ہمراہ چھاپہ مار کر نامزد ملزم محمد شاکر کو حراست میں لے لیا۔ پولیس تحقیقات کے مطابق ملزم محمد شاکر نوجوان لڑکی کو "دم کروانے" کے بہانے ڈیفنس میں واقع 'دی گرینڈ آرچرڈ ون' ہوٹل کے ایک کمرے میں لے گیا، جہاں اس نے بچی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے زبردستی ہوس کا نشانہ بنایا۔
ملزم نے درندگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد مظلوم لڑکی کو سخت دھمکیاں بھی دیں کہ اگر اس نے اس واقعے کا ذکر کسی سے بھی کیا، تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ تاہم، متاثرہ لڑکی نے ہمت دکھا کر اپنی والدہ کو پوری آپبیتی سنائی، جس کے بعد فوری طور پر قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔
مقدمہ درج اور کیس جینڈر سیل کے حوالے
پولیس حکام نے واقعے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- والدہ کی مدعیت میں ایف آئی آر: متاثرہ لڑکی کی حقیقی والدہ کی مدعیت میں ملزم محمد شاکر کے خلاف فوری طور پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
- کیس جینڈر سیل منتقل: واقعے کی باریک بینی اور پیشہ ورانہ انداز میں تفتیش کے لیے کیس کو باقاعدہ طور پر جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
- پولیس ٹیم کو شاباش: ایس پی کینٹ اختر نواز نے بروقت کارروائی اور ملزم کی فوری گرفتاری پر ایس ایچ او محمد افضال، ایس آئی محمد آصف اور پوری ٹیم کو تعریفی اسناد اور شاباش دی۔
ایس پی کینٹ کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچیوں کے جنسی استحصال میں ملوث ایسے درندہ صفت عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور پولیس ملزم کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لے گی۔

Comments
Post a Comment