کراچی میں جہیز کا جن بے قابو؛ موٹر سائیکل نہ ملنے پر سسرالیوں کا وحشیانہ تشدد، 18 سالہ مصباح جاں بحق

Edhi ambulance outside Abbasi Shaheed Hospital Karachi following a tragic domestic abuse case in Surjani Town
شہرِ قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں جہیز کے لالچ اور سفاکیت کا ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ سیفل مری گوٹھ میں مبینہ طور پر موٹر سائیکل کی ڈیمانڈ پوری نہ کرنے پر سسرالیوں نے وحشیانہ تشدد کر کے اپنی 18 سالہ نوبیاہتا بہو کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایدھی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

"مصباح نے واقعے سے قبل بھائی کو فون کر کے آگاہ کیا تھا"

ایدھی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 18 سالہ مصباح کے نام سے ہوئی ہے۔ مقتولہ کے سوگوار اہلخانہ نے سسرالیوں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا کہ شادی کے بعد سے ہی مصباح کو موٹر سائیکل لانے کے لیے مجبور کیا جا رہا تھا اور ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر اسے روز روز شدید ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

اہلخانہ نے انکشاف کیا کہ اس ہولناک واقعے سے چند لمحے قبل ہی مصباح نے اپنے بھائی کو فون کر کے سسرالیوں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور موٹر سائیکل کے مطالبے سے روتے ہوئے آگاہ کیا تھا، لیکن اس سے پہلے کہ بھائی مدد کو پہنچتا، معصوم لڑکی کی جان لے لی گئی۔ مقتولہ کے والدین کا کہنا ہے کہ مصباح پر پہلے بھی کئی بار تشدد کیا گیا جس کی شکایات پولیس کو کی گئیں، لیکن پولیس نے روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، جس کی قیمت ان کی بیٹی کو جان دے کر چکانی پڑی۔

متاثرہ خاندان کا انصاف اور فوری گرفتاریوں کا مطالبہ

مصباح کی اچانک موت نے پورے علاقے میں کہرام مچا دیا ہے اور متاثرہ خاندان انصاف کے لیے سراپا احتجاج ہے۔ واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام بھی حرکت میں آ گئے ہیں:

  • تحقیقات کا آغاز: سرجانی ٹاؤن پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
  • ملزمان کی تلاش: متاثرہ خاندان نے وزیرِ اعلیٰ سندھ اور آئی جی پی سے مطالبہ کیا ہے کہ مصباح کے قاتل سسرالیوں کو فوری گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔
  • شواہد اور پوسٹ مارٹم: پولیس کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال سے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی حتمی وجہ کا تعین کیا جائے گا۔

کراچی میں پیش آنے والے اس دردناک واقعے نے ایک بار پھر ہمارے معاشرے میں جہیز جیسی لعنت اور خواتین پر ہونے والے گھریلو تشدد کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Dowry Horror in Karachi: 18-Year-Old Misbah Tortured to Death Over Motorcycle Demand


KARACHI: In a tragic case of domestic violence fueled by dowry greed, an 18-year-old woman named Misbah was allegedly tortured to death by her in-laws in the Saiful Marri Goth area of Surjani Town. Edhi rescue services shifted the body to Abbasi Shaheed Hospital for a post-mortem examination.

Victim Warned Brother Before Her Death

According to the victim's family, Misbah was constantly subjected to severe physical abuse because they could not fulfill her in-laws' demand for a motorcycle. In a heart-wrenching disclosure, the family shared that Misbah had called her brother just prior to the incident, crying and informing him about the escalating abuse and demands.

Police Inaction Blamed; Investigation Underway

The grieving family slammed the local police, alleging that previous complaints of domestic abuse had been ignored. They are demanding the immediate arrest of the perpetrators. Meanwhile, Karachi police stated they have initiated a thorough investigation and are gathering forensic evidence from the crime scene.

Comments