جاپان میں شرحِ سود 1995 کے بعد بلند ترین سطح پر؛ عالمی معیشت میں بڑا بوم

Bank of Japan building in Tokyo representing the latest interest rate hike policy
عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کے بعد جاپان کے مرکزی بینک نے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ بینک آف جاپان (BOJ) نے اپنی بنیادی شرحِ سود کو 0.75 فیصد سے بڑھا کر 1 فیصد کر دیا ہے، جو کہ پچھلے 31 سالوں (1995 کے بعد) میں ملک کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور جاپان جیسے ممالک، جو پٹرولیم مصنوعات کے لیے بیرونی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

20 سالہ جمود کا خاتمہ اور ین (Yen) کو بچانے کی کوشش

ماہرینِ معاشیات کے مطابق، جاپان پچھلی دو دہائیوں سے "ڈی فلیشن" (قیمتوں میں مسلسل کمی اور جمود) کا شکار تھا، جس کی وجہ سے شرحِ سود کو صفر کے قریب رکھا گیا تھا۔ لیکن اب جاپان اس جمود سے نکل کر آفیشل طور پر "انفلیشن سائیکل" (مہنگائی اور ترقی کے دور) میں داخل ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جاپان کو کسی ہنگامی معاشی پالیسی کی ضرورت نہیں رہی اور وہ اپنے نظام کو نارمل کر رہا ہے۔ مئی کے مہینے میں جاپان میں ہول سیل قیمتیں 6 فیصد سے زائد کی رفتار سے بڑھیں، جس نے مرکزی بینک کو ایکشن لینے پر مجبور کیا۔

بینک آف جاپان کے گورنر کازو اویڈا اگرچہ جگر کے انفیکشن کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہونے کی وجہ سے اس اہم ترین میٹنگ میں شریک نہیں ہو سکے، لیکن وہ اور دیگر پالیسی ساز کافی عرصے سے اس اقدام کے حق میں تھے۔ اس فیصلے کا ایک بڑا مقصد جاپانی کرنسی "ین" (Yen) کو امریکی ڈالر اور یورو کے مقابلے میں مستحکم کرنا بھی ہے، جو مسلسل گراوٹ کا شکار تھی۔

تبصرہ و تجزیہ: جاپان کا مشکل معاشی توازن

اس پوری صورتحال پر گہرا معاشی تجزیہ یہ بنتا ہے کہ جاپان اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ شرحِ سود بڑھانے سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور 'ین' کو مضبوط کرنے میں تو مدد ملے گی، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اب حکومت، مقامی بزنسز اور عام شہریوں کے لیے بینکوں سے قرضے لینا مہنگا ہو جائے گا۔ وزیرِ اعظم ثنائے تاکائیچی، جو ملک میں سرکاری اخراجات بڑھانے کی حامی مانی جاتی ہیں، ماضی میں شرحِ سود بڑھانے کی مخالفت کرتی رہی ہیں، مگر وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہوں نے مرکزی بینک کے فیصلوں پر کوئی عوامی تنقید نہیں کی، کیونکہ ان پر بھی ملک میں مہنگائی کم کرنے کا شدید دباؤ ہے۔

عالمی مارکیٹ کا موازنہ اور ماضی کا ریکارڈ (Evergreen Context):

اس تاریخی فیصلے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے عالمی مارکیٹ کا پسِ منظر اور ماضی کا ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے:

  • 1990 کا معاشی بحران: 1990 کی دہائی میں جاپان میں پراپرٹی اور شیئرز مارکیٹ کریش ہونے کے بعد شرحِ سود میں جارحانہ کٹوتیاں کی گئی تھیں، تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔
  • مارچ 2024 کا ریکارڈ: بینک آف جاپان نے تقریباً 17 سال کے طویل وقفے کے بعد مارچ 2024 میں پہلی بار شرحِ سود میں اضافہ کر کے منفی شرحِ سود (Negative Interest Rates) کا خاتمہ کیا تھا۔
  • عالمی معیشتوں سے موازنہ: 1 فیصد تک پہنچنے کے باوجود جاپان کی شرحِ سود امریکہ اور برطانیہ جیسے بڑے ممالک کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے، جہاں اس وقت شرحِ سود 3 فیصد سے اوپر چل رہی ہے۔

جاپان کا یہ قدم صرف ایک ملکی فیصلہ نہیں بلکہ یہ عالمی اقتصادی نظام میں ایک سست لیکن بڑے رئیلائنمنٹ (تبدیلی) کا سگنل ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹس پر دیکھے جائیں گے۔


⬇️ Click to Read this Economic Report in English

Economic Shift: Bank of Japan Hikes Interest Rate to Highest Level Since 1995


TOKYO: The Bank of Japan (BOJ) has raised its key policy interest rate from 0.75% to 1%, marking a new 31-year high. This decision is driven by global inflation and surging energy costs resulting from geopolitical tensions in the Middle East. It marks a definitive end to two decades of deflationary economic policies and near-zero rates.

Stabilizing the Yen and Balancing National Growth

While BOJ Governor Kazuo Ueda missed the meeting due to hospitalization, policymakers successfully pushed the hike to stabilize the weakening Japanese Yen against the US Dollar and Euro. Prime Minister Sanae Takaichi has faced immense domestic pressure to curb wholesale price hikes, which rose by 6% in May, leading to tacit political support for the central bank’s tightening policy.

Comments