شرقِ اوسط میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ کویت کی فوج کے مطابق ایران نے کویت کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون اور میزائلوں سے بڑا حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے ایک ٹرمینل کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس اچانک حملے کے بعد کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئرپورٹ پر تمام فضائی ٹریفک کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور آنے والی پروازوں کو متبادل ایئرپورٹس کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ کویتی وزارتِ دفاع نے اسے ایک مجرمانہ ایرانی جارحیت قرار دیا ہے۔
حملے کی اصل وجہ؛ امریکہ اور ایران کا سمندری ٹکراؤ
یہ حملہ امریکہ اور ایران کے درمیان خلیجِ فارس میں جاری میزائل اور ڈرون حملوں کے تازہ تبادلے کا نتیجہ ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (Centcom) کے مطابق، انہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے دوران ایران کی جانب جانے والے ایک بوٹسوانا کے جھنڈے والے آئل ٹینکر 'ایم ٹی لیکسی' (M/T Lexie) کے انجن کو ہیل فائر میزائل سے نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا تھا۔ اس امریکی کارروائی کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کویت میں موجود امریکی بیس اور ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف ایران نے بحرین میں قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے (5th Fleet) کے ہیڈکوارٹر پر بھی ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم امریکی کمانڈ نے اس کی تردید کی ہے۔
ایران کا سخت موقف اور مڈل ایسٹ کی صورتحال
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ قیادت نے اس حملے کی تمام تر ذمہ داری کویت اور بحرین پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سرزمین اور انفراسٹرکچر امریکی جارحیت کے لیے استعمال ہونے دے رہے ہیں، اس لیے انہیں نتائج بھگتنا ہوں گے۔ خطے کی موجودہ نازک صورتحال کے اہم ترین نکات یہ ہیں:
- جنگ میں وسعت: ایران کے عسکری مشیر محسن رضائی نے دھمکی دی ہے کہ امریکہ کے ہر وار کا جواب میزائلوں کے طوفان سے دیا جائے گا۔
- لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کے دعوؤں کے باوجود، اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان اور بیروت کے قریبی علاقوں پر صیہونی بمباری جاری رکھی ہے، جس میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت متعدد لبنانی شہری شہید ہو چکے ہیں۔
- امریکی بحری ناکہ بندی: 13 اپریل سے جاری امریکی ناکہ بندی کے بعد سے 'ایم ٹی لیکسی' چھٹا ایرانی جہاز ہے جسے امریکی فوج نے ناکارہ بنایا ہے، جبکہ اب تک 122 بحری جہازوں کا راستہ روکا جا چکا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے والا ہے، لیکن زمینی حقائق اور تازہ ترین ایرانی حملوں نے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے اور خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

Comments
Post a Comment