ایک مشہور شہر کے کے مضافات میں واقع یہ قدیم بنگلہ، جسے سب "حویلی خاموشیاں" کہتے تھے، ایک ایسی جگہ تھی جہاں سورج کی روشنی بھی داخل ہوتے ہوئے ڈرتی تھی۔ برسوں سے خالی پڑی اس حویلی میں صرف دھول اور مکڑی کے جالوں کی حکمرانی تھی۔
بابا رحیم، جو ستر برس کے ہو چکے تھے، اپنی کانپتی ہوئی انگلیوں سے لالٹین تھامے حویلی کے مرکزی دروازے کے پاس کھڑے تھے۔ ان کی آنکھیں، جو برسوں کی تھکن اور خاموشی کی گواہ تھیں، اب ایک عجیب سے خوف سے بھری ہوئی تھیں۔ ان کا کام صرف حویلی کی بیرونی حفاظت کرنا تھا، لیکن پچھلے تین دنوں سے وہ ایک ایسی آواز سن رہے تھے جس نے ان کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔ یہ ایک پرانے، دھول سے بھرے پیانو کی سسپنس بھری دھن تھی، جو حویلی کے سب سے بڑے ہال سے گونجتی تھی۔
ہال کے اندر، جہاں موت کا سناٹا چھایا ہوا تھا، وہ قدیم پیانو خاموشی سے رکھا تھا۔ بابا رحیم نے کبھی اس پیانو کو بجتے نہیں دیکھا تھا، نہ ہی حویلی میں کوئی ایسا شخص تھا جو اسے بجا سکتا۔ لیکن جیسے ہی رات کے بارہ بجتے، وہ دھن بجنا شروع ہو جاتی۔آج، بابا رحیم نے فیصلہ کیا کہ وہ اس راز کو جان کر ہی دم لیں گے۔ انہوں نے آہستہ سے ہال کا دروازہ دھکیلا۔ جیسے ہی دروازہ کھلا، لالٹین کی مدہم روشنی نے ہال کے اندر پھیلی ہوئی دھول اور مکڑی کے جالوں کو بے نقاب کیا۔ ان کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ پیانو کی طرف بڑھے۔
اچانک، جیسے ہی چاند کی ایک پتلی سی کرن کھڑکی سے اندر آئی اور سیدھا پیانو کے بٹنوں پر پڑی، بابا رحیم کے قدم وہیں جم گئے۔
پیانو کے سیاہ و سفید بٹنوں پر ایک ہاتھ ابھرتا ہوا دکھائی دیا—ایک ایسا ہاتھ جس کی جلد بالکل شفاف اور ٹھنڈی یخ تھی! وہ کوئی انسانی ہاتھ نہیں تھا۔ پیانو کی ایک کُنجی دبی، اور ایک ایسی سُر نکلی جس نے رات کے سکون کو چیر کر رکھ دیا۔ وہ دھن تیز ہوتی گئی، جیسے کوئی روح اپنے درد کو موسیقی کے ذریعے بیان کر رہی ہو۔
بابا رحیم کی لالٹین ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گئی اور ہال تاریکی میں ڈوب گیا۔ کیا یہ بنگلہ واقعی خالی ہے؟ یا یہاں کوئی ایسی روح قید ہے جو اب خاموشی سے تنگ آ چکی ہے؟
(جاری ہے... اگلی قسط کل اسی وقت ڈیلی حلیف پر اپڈیٹ کی جائے گی!)

Comments
Post a Comment