خاموشی کی آواز ( قسط نمبر 1)

ایک مشہور شہر کے کے مضافات میں واقع یہ قدیم بنگلہ، جسے سب "حویلی خاموشیاں" کہتے تھے، ایک ایسی جگہ تھی جہاں سورج کی روشنی بھی داخل ہوتے ہوئے ڈرتی تھی۔ برسوں سے خالی پڑی اس حویلی میں صرف دھول اور مکڑی کے جالوں کی حکمرانی تھی۔

بابا رحیم، جو ستر برس کے ہو چکے تھے، اپنی کانپتی ہوئی انگلیوں سے لالٹین تھامے حویلی کے مرکزی دروازے کے پاس کھڑے تھے۔ ان کی آنکھیں، جو برسوں کی تھکن اور خاموشی کی گواہ تھیں، اب ایک عجیب سے خوف سے بھری ہوئی تھیں۔ ان کا کام صرف حویلی کی بیرونی حفاظت کرنا تھا، لیکن پچھلے تین دنوں سے وہ ایک ایسی آواز سن رہے تھے جس نے ان کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔ یہ ایک پرانے، دھول سے بھرے پیانو کی سسپنس بھری دھن تھی، جو حویلی کے سب سے بڑے ہال سے گونجتی تھی۔

اچانک، جیسے ہی چاند کی ایک پتلی سی کرن کھڑکی سے اندر آئی اور سیدھا پیانو کے بٹنوں پر پڑی، بابا رحیم کے قدم وہیں جم گئے۔

پیانو کے سیاہ و سفید بٹنوں پر ایک ہاتھ ابھرتا ہوا دکھائی دیا—ایک ایسا ہاتھ جس کی جلد بالکل شفاف اور ٹھنڈی یخ تھی! وہ کوئی انسانی ہاتھ نہیں تھا۔ پیانو کی ایک کُنجی دبی، اور ایک ایسی سُر نکلی جس نے رات کے سکون کو چیر کر رکھ دیا۔ وہ دھن تیز ہوتی گئی، جیسے کوئی روح اپنے درد کو موسیقی کے ذریعے بیان کر رہی ہو۔

A mysterious translucent hand playing the piano keys

بابا رحیم کی لالٹین ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گئی اور ہال تاریکی میں ڈوب گیا۔ کیا یہ بنگلہ واقعی خالی ہے؟ یا یہاں کوئی ایسی روح قید ہے جو اب خاموشی سے تنگ آ چکی ہے؟

(جاری ہے... اگلی قسط کل اسی وقت ڈیلی حلیف پر اپڈیٹ کی جائے گی!)

⬇️ Click to Read this Story in English

The Voice of Silence (Episode 1)


This ancient mansion on the outskirts of Jalalpur Jattan, known to everyone as "Haveli Khamooshian" (The Mansion of Silence), was a place where even sunlight feared to enter. For years, it lay abandoned, ruled only by dust and cobwebs.

Baba Rahim, now seventy years old, stood near the main entrance holding a lantern with trembling fingers. His eyes, witnesses to years of fatigue and silence, were now filled with a strange terror. His job was merely to guard the perimeter, but for the past three nights, he had been hearing a sound that stole his sleep—a suspenseful melody from an old, dusty piano echoing through the main hall.

Tonight, Baba Rahim decided to uncover the truth. He pushed open the hall door. As a thin beam of moonlight hit the keys, his feet froze. A hand appeared over the piano—translucent and icy cold, clearly not human! A key was pressed, and a melody pierced the night. Baba Rahim’s lantern slipped from his hand, plunging the hall into total darkness. Is the mansion truly empty, or is an restless soul trapped inside?

(To be continued...)

Comments