آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی آمد سے قبل قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اہم اجلاس میں ملک کے مستقبل کے معاشی اور ترقیاتی اہداف کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراء اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی معیشت کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4 فیصد اور ریکارڈ ترقیاتی بجٹ
اجلاس کے بعد میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی ملکی پیداوار (GDP Growth) کی شرح کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کونسل نے مجموعی ملکی ترقیاتی بجٹ کا حجم 3 ہزار 669 ارب روپے منظور کیا ہے، جس میں وفاق اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) شامل ہیں۔
احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ وفاق کا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) یعنی ترقیاتی بجٹ 1 ہزار ارب روپے ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شدید مالیاتی نظم و ضبط کے باعث، اس بار وفاقی ترقیاتی بجٹ میں داخلہ اور دفاع کے شعبوں کے سوا کسی بھی نئے ترقیاتی منصوبے کو شامل نہیں کیا جائے گا، بلکہ تمام تر توجہ پہلے سے جاری (Ongoing) منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے پر مرکوز کی جائے گی تاکہ throw-forward واجبات کو کم کیا جا سکے۔
قومی اقتصادی سروے کی پیشی اور میکرو اکنامک اہداف
اس موقع پر وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کا تیار کردہ "پاکستان اقتصادی سروے" (Economic Survey) کل باقاعدہ طور پر عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کر دیا جائے گا، جس میں رواں مالی سال کے دوران معاشی کارکردگی کے تفصیلی اعداد و شمار شامل ہوں گے۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں دیگر اہم ترین فیصلے درج ذیل ہیں:
- شعبہ جاتی ترقی کے اہداف: جی ڈی پی کے 4 فیصد ہدف کو حاصل کرنے کے لیے زراعت میں 3.8 فیصد اور صنعتی شعبے میں 4 فیصد شرح نمو کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
- مہنگائی پر کنٹرول: آئندہ مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح کو سنگل ڈیجٹ یعنی 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- بجٹ کی پیشی: قومی اقتصادی کونسل سے اہداف کی اصولی منظوری کے بعد اب وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کے ان فیصلوں کو ملکی معاشی استحکام اور آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے مطابق مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment