پراپرٹی ٹیکس میں کمی اور کارپوریٹ کمپنیوں پر نئے لیوی
کل یکم جولائی سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے اہم تبدیلی لائی جا رہی ہے، جہاں پراپرٹی خریدنے اور فروخت کرنے والوں پر ایڈوانس ٹیکس میں کمی کر کے نئی شرح لاگو کی گئی ہے۔ اب جائیداد فروخت کرنے والے شخص سے مجموعی رقم کا 2.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ پراپرٹی خریدنے والے پر فیئر مارکیٹ ویلیو کا 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوگا۔ دوسری جانب، کارپوریٹ سیکٹر پر گرفت سخت کی گئی ہے؛ بینکنگ کمپنیوں اور فرٹیلائزر سیکٹر کی 15 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن پر 10 فیصد جبکہ دیگر کارپوریٹ کمپنیوں کی 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 8 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر ود ہولڈنگ ٹیکس اب 0.5 فیصد ہوگا۔
گاڑیوں کے شوقین افراد اور آٹو انڈسٹری کے لیے بھی بجٹ میں بڑی رعایتیں دی گئی ہیں۔ 850 سے 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں 35 سے 50 فیصد تک کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔ آٹو پالیسی کے تحت آٹو پارٹس پر کسٹم ڈیوٹی 10 فیصد اور بائیکس پر 20 فیصد کم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آٹو سیکٹر، ویجیٹیبل آئل، سونا چاندی اور موبائل فونز پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی میں بھی 2، 2 فیصد کی کمی لائی گئی ہے۔ ان کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کی شرح کم کرنے سے وفاقی حکومت کو مجموعی طور پر 112 ارب روپے سے زائد کا ریونیو کم ملے گا، لیکن اس سے عوام اور صنعتوں کو بڑا ریلیف ملنے کی امید ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: ریونیو کا شارٹ فال اور کاروباری طبقے کا اعتماد
حکومت نے ایک طرف عوام کو گاڑیوں، موبائل اور پراپرٹی ٹیکس میں ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، تو دوسری طرف فرٹیلائزر اور بینکنگ جیسے منافع بخش کارپوریٹ سیکٹرز پر ٹیکس بڑھا کر ریونیو کو متوازن کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے باعث حکومت کو تقریباً 112 ارب روپے سے زائد کے ریونیو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کو پورا کرنا ایف بی آر (FBR) کے لیے ایک کڑا امتحان ہوگا۔ تاہم، رئیل اسٹیٹ میں ایڈوانس ٹیکس کی کمی سے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش بڑھے گی اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہونے میں مدد ملے گی۔ اب اصل چیلنج یکم جولائی سے ان فیصلوں پر بلا تاخیر اور شفاف طریقے سے عملدرآمد کروانا ہے۔
پاکستان میں حالیہ مالیاتی اور بجٹ اصلاحات کا پسِ منظر:
ملک میں فنانس بل کی منظوری اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا تاریخی ریکارڈ درج ذیل ہے:
- فائلر اور نان فائلر کا تصور: پاکستان کے ٹیکس نظام میں دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کے لیے فائلر اور نان فائلر کے لیے پراپرٹی، گاڑیوں اور بینکنگ ٹرانزیکشنز پر الگ الگ ٹیکس کی شرح مقرر کی گئی، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔
- آٹو پالیسی ریفارمز: مقامی سطح پر گاڑیوں کی اسمبلنگ کو فروغ دینے اور عوام کو سستی گاڑیاں فراہم کرنے کے لیے ماضی میں بھی سی بی یو (CBU) اور سی کے ڈی (CKD) کٹس پر کسٹم ڈیوٹیز کے ڈھانچے میں بڑے ردوبدل کیے گئے۔
- کارڈ ٹرانزیکشنز پر ود ہولڈنگ ٹیکس: بیرونِ ملک رقوم کی منتقلی اور کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے ہونے والی بین الاقوامی خریداریوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فائلرز اور نان فائلرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ کیا گیا تاکہ غیر دستاویزی فارن ایکسچینج کو روکا جا سکے۔
فنانس ایکٹ 2026-27 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اب گیند ایف بی آر اور نفاذ کرنے والے اداروں کے کورٹ میں ہے۔ کل سے شروع ہونے والا نیا مالی سال ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

Comments
Post a Comment