امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلے جانے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے گورننگ باڈی نے گروپ اسٹیج کے قوانین میں ایک تاریخی اور بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر گروپ اسٹیج کے دوران دو یا دو سے زیادہ ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہو جاتے ہیں، تو اب پوزیشن کا فیصلہ کرنے کے لیے "گول ڈفرنس" (Goal Difference) کے بجائے سب سے پہلے "ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ" (Head-to-Head Record) کو بنیادی معیار مانا جائے گا۔ یہ تبدیلی ٹورنامنٹ کے پورے نقشے اور ٹیموں کی حکمتِ عملی کو بدل کر رکھ دے گی۔
پوائنٹس برابر ہونے پر فیصلے کا نیا طریقہ کار:
نئے قوانین کے تحت اگر دو ٹیمیں برابر پوائنٹس پر آئیں، تو دیکھا جائے گا کہ ان کا آپس کا میچ کس نے جیتا تھا۔ اگر وہ میچ ڈرا ہوا تھا، تو پھر بالترتیب درج ذیل 7 قوانین کے تحت فیصلہ کیا جائے گا:
- ہیڈ ٹو ہیڈ پوائنٹس: متاثرہ ٹیموں کے آپسی میچوں میں حاصل کردہ پوائنٹس۔
- ہیڈ ٹو ہیڈ گول ڈفرنس: صرف ان ٹیموں کے آپسی میچوں کا گول ڈفرنس۔
- ہیڈ ٹو ہیڈ گولز: آپسی میچوں میں کس ٹیم نے زیادہ گول کیے۔
- مجموعی گول ڈفرنس: پورے گروپ اسٹیج کے تمام میچوں کا مجموعی گول ڈفرنس۔
- مجموعی گولز سکور: پورے گروپ میں کس نے سب سے زیادہ گول کیے۔
- ڈسپلنری ریکارڈ (ٹیم کنڈکٹ): جس ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو سب سے کم یلو اور ریڈ کارڈز ملے ہوں گے۔
- فیفا ورلڈ رینکنگ: اگر سب کچھ برابر رہا، تو تازہ ترین فیفا رینکنگ میں اوپر موجود ٹیم اگلے راؤنڈ میں چلی جائے گی۔
ماضی کی دلچسپ ہسٹری اور ٹائی بریکرز (Evergreen Context):
فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں ٹائی بریکر قوانین ہمیشہ سے دلچسپ اور متنازع رہے ہیں، جن کا ریکارڈ درج ذیل ہے:
- قرعہ اندازی کا خاتمہ (Drawing of Lots): پچھلے ورلڈ کپ (2022) تک قانون تھا کہ اگر سب کچھ برابر ہو جائے تو پرچی ڈال کر (قرعہ اندازی) فیصلہ ہوگا، لیکن 2026 میں اسے ختم کر کے فیفا رینکنگ کو فائنل ٹائی بریکر بنایا گیا ہے۔ ماضی میں 1990 کے ورلڈ کپ میں آئرلینڈ اور نیدرلینڈز کے درمیان پرچی کے ذریعے فیصلہ ہوا تھا، جس میں آئرلینڈ دوسرے اور ڈچ ٹیم تیسرے نمبر پر چلی گئی تھی۔ اسی طرح 1970 میں سوویت یونین اور میکسیکو کے درمیان بھی پرچی کے ذریعے گروپ ونر کا فیصلہ ہوا تھا۔
- گول ایوریج کا دور (قبل از 1970): 1970 سے پہلے گول ڈفرنس کے بجائے "گول ایوریج" (گول اسکور کو گول کنسیڈ سے تقسیم کرنا) استعمال ہوتی تھی، جس کا فائدہ 1962 میں انگلینڈ کو ہوا تھا اور وہ ارجنٹائن کو پیچھے چھوڑ کر اگلے راؤنڈ میں پہنچا تھا۔
- پلے آف میچز (1954 اور 1958): ان سالوں میں ٹائی ہونے کی صورت میں ٹیموں کے درمیان باقاعدہ پلے آف میچ کروایا جاتا تھا۔
- براہ راست ناک آؤٹ (1934 اور 1938): ان شروعاتی ورلڈ کپس میں کوئی گروپ اسٹیج نہیں تھا، میچ ڈرا ہونے کی صورت میں دوبارہ ری پلے (دوبارہ میچ) کھیلا جاتا تھا۔
تبصرہ: فیفا کا یہ نیا قانون اب ٹیموں کو مجبور کرے گا کہ وہ صرف بڑے مارجن سے جیتنے کے بجائے ہر میچ کو فائنل سمجھ کر کھیلیں، کیونکہ ایک بھی ہار آپ کو ہیڈ ٹو ہیڈ رول کی وجہ سے ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment