طلبہ کی ذہنی اذیت، ٹیلی گرام پر پابندی اور عوامی غصہ
اس میڈیکل ٹیسٹ میں کامیابی کی شرح صرف 5 سے 6 فیصد ہوتی ہے، جس کے لیے غریب اور مڈل کلاس والدین اپنے بچوں کو مہنگی کوچنگ کلاسز کرواتے ہیں اور طلبہ سالہا سال دن رات پڑھتے ہیں۔ پرچہ آؤٹ ہونے اور دوبارہ ٹیسٹ کے اس پورے عمل نے لاکھوں نوجوانوں کو شدید ذہنی صدمے اور نفسیاتی تھکن میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت نے اس نئی لیکیج کو روکنے کے لیے بھارت میں سب سے مقبول میسجنگ ایپ "ٹیلی گرام" (Telegram) پر بھی عارضی پابندی لگا دی تھی، کیونکہ رپورٹس کے مطابق نئے پرچے بھی وہاں فروخت کیے جا رہے تھے۔ اگرچہ آزادیِ اظہارِ رائے کے حامیوں نے اس کی مخالفت کی، لیکن عدالت نے حکومت کی اس پابندی کو جائز قرار دیا۔
اس بدانتظامی کے خلاف بھارت میں ایک انوکھا طنزیہ احتجاج بھی شروع ہو گیا ہے، جہاں نوجوانوں نے حکمران جماعت (BJP) کے نام پر "کاکروچ جنتا پارٹی" (CJP) کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے جس کے انسٹاگرام پر 22 ملین سے زائد فالوورز ہو چکے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: امتحانی مافیا اور ڈیجیٹل سسٹم کی ناکامی
اس پورے اسکینڈل پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ بھارت کا وسیع ترین امتحانی نظام اندرونی طور پر کرپشن اور نااہلی کا شکار ہو چکا ہے۔ حال ہی میں نئے ڈیجیٹل اسکورنگ سسٹم کی وجہ سے 4 لاکھ سے زائد طلبہ کے اسکول لیول کے پرچوں میں مارکنگ کی سنگین غلطیاں سامنے آئی تھیں، جہاں خود اساتذہ سافٹ ویئر کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ بھارتی میڈیا بھی اب یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ حکام امتحانی لیکیج کو روکنے کے لیے قبل از وقت انتظامات کرنے کے بجائے، اربوں روپے صرف ڈیمج کنٹرول اور دوبارہ امتحانات کروانے پر کیوں ضائع کرتے ہیں؟ جب تک امتحانی مافیا کو عبرتناک سزائیں نہیں دی جائیں گی، معصوم بچوں کے مستقبل سے یہ کھلواڑ بند نہیں ہوگا۔
بھارت میں امتحانی اسکینڈلز اور پرچہ لیکیج کی تاریخ:
انڈیا میں سرکاری ملازمتوں اور یونیورسٹی داخلوں کے امتحانات میں لیکیج اور کرپشن کا ایک طویل پسِ منظر ہے جو اس مسئلے کی جڑوں کو ظاہر کرتا ہے:
- ویاپم اسکینڈل (Vyapam Scam): ریاست مدھیہ پردیش کا سب سے بدنامِ زمانہ میڈیکل داخلہ اسکینڈل، جس میں اربوں روپے کی رشوت، جعلی امیدواروں کے بیٹھنے اور اس کیس سے جڑے درجنوں گواہوں اور صحافیوں کی پُراسرار اموات نے پوری دنیا کو دنگ کر دیا تھا۔
- پیپر لیک مافیا اور ریاستی قوانین: اتر پردیش (UP)، راجستان اور گجرات جیسے بڑے صوبوں میں پچھلے چند سالوں میں پولیس، اساتذہ اور پٹواریوں کے امتحانی پرچے درجنوں بار لیک ہوئے، جس کے بعد حکومتوں کو لیکیج کے خلاف سخت قوانین اور سزائیں متعارف کروانی پڑیں۔
- معاشی دباؤ اور خودکشیاں: بھارت کے شہر 'کوٹا' (Kota) میں میڈیکل اور انجینئرنگ کے امتحانات کی تیاری کرنے والے سالانہ درجنوں طلبہ شدید ذہنی دباؤ، فیل ہونے کے خوف اور امتحانی نظام کی بے یقینی کے باعث خودکشیاں کر لیتے ہیں، جو اس نظام کے منہ پر طماچہ ہے۔
20 لاکھ طلبہ کا یہ ریشت (Re-sit) اور ذہنی ٹراما یہ ثابت کرتا ہے کہ پیپر لیک مافیا اب بچوں کے خوابوں کا سوداگر بن چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی حکومت اس انکوائری کے بعد اصل مجرموں کو کٹہرے میں لاتی ہے یا نہیں۔

Comments
Post a Comment