عالمی موسمیاتی تنظیموں کی ایک نئی اور چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کا مقدس شہر مکہ مکرمہ گزشتہ 26 سالوں کے دوران دنیا بھر میں سب سے زیادہ اوسط درجہ حرارت ریکارڈ کرنے والا شہر بن گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) اور امریکی ادارے (NOAA) کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے باعث مکہ مکرمہ میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے اہم اور تشویشناک اعداد و شمار
اس تفصیلی رپورٹ میں دنیا بھر کے سینکڑوں شہروں کے موسم کا جائزہ لیا گیا، جس میں مکہ مکرمہ کا اوسط درجہ حرارت سب سے زیادہ پایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ کی جغرافیائی پوزیشن، پہاڑی سلسلہ اور صحرائی آب و ہوا اس شدید گرمی کی بنیادی وجہ ہیں، لیکن گزشتہ ڈھائی دہائیوں میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور گلوبل وارمنگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مکہ مکرمہ میں گرمیوں کے مہینوں کے دوران درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے، جو انسانی صحت اور روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
حجاج کرام اور زائرین کے لیے اقدامات کی ضرورت
مکہ مکرمہ میں دنیا بھر سے سالانہ لاکھوں مسلمان حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اس شدید گرمی کے پیشِ نظر رپورٹ میں چند اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے:
- گرمی کی لہر (Heatwaves): حالیہ برسوں میں حج کے سیزن کے دوران ہیٹ اسٹروک اور تھکن کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے لیے زائرین کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
- سعودی حکومت کے انتظامات: سعودی عرب کی حکومت نے گرمی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سائے دار راہداریاں، ٹھنڈے پانی کے اسپرے اور جدید ترین کولنگ سسٹم نصب کیے ہیں، تاہم بڑھتا ہوا درجہ حرارت مزید طویل مدتی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔
- گرین مکہ پروجیکٹ: ماہرین نے شہر میں شجرکاری کو بڑھانے اور ماحول دوست انفراسٹرکچر کی تعمیر پر زور دیا ہے تاکہ مقامی سطح پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو کنٹرول کیا جا سکے۔
موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں مشرقِ وسطیٰ کے خطے بشمول مکہ مکرمہ میں گرمی کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

Comments
Post a Comment