پاک افغان سرحد پر کشیدگی؛ پاکستان کے فضائی حملوں میں 26 دہشت گرد ہلاک، افغان طالبان کا جانی نقصان کا دعویٰ

Military presence and border security enhancement along the Pakistan-Afghanistan border following recent air strikes
پاک افغان سرحدی علاقے میں کئی ماہ کے نسبتاً امن کے بعد ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے افغان سرحد کے ساتھ مربوط اور درست نشانے پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں 26 دہشت گرد ہلاک اور ان کے چار اہم ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، افغانستان کی طالبان حکومت نے ان حملوں میں بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف: شہریوں کا تحفظ پہلی ترجیح ہے

وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ فضائی کارروائی پاکستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ ان حملوں میں سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، ایک تربیتی مرکز اور اسلحہ کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین اور ناگزیر ترجیح ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت پر یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان دہشت گردوں کو پناہ فراہم کر رہی ہے جو پاکستان میں داخل ہو کر معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ تاہم، کابل میں موجود طالبان حکومت ان الزامات کی مسلسل تردید کرتی آئی ہے۔ فروری کے بعد یہ پہلا بڑا فوجی ٹکراؤ ہے، جس نے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تناؤ میں یکسر اضافہ کر دیا ہے۔

افغان طالبان کا ردِعمل اور صوبوں کی صورتحال

افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی فضائی حملوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں افغان صوبوں کنڑ، خوست اور پکتیکا میں کی گئیں۔ افغان حکومت کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • جانی نقصان کا دعویٰ: طالبان ترجمان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 11 بچوں، ایک خاتون اور ایک عمر رسیدہ شخص سمیت 13 افراد جان بحق ہوئے ہیں۔
  • سرزمین کے استعمال کی تردید: افغان حکومت نے ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ ان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کی سیکیورٹی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
  • عالمی برادری کی اپیلیں: فروری کی شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد، جس میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی تھیں، عالمی رہنماؤں نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کے بعد اس تازہ ترین فوجی کارروائی نے خطے کی صورتحال کو ایک بار پھر حساس اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Pakistan Launches Deadly Air Strikes Along Afghanistan Border, Shattering Months of Calm


ISLAMABAD/KABUL: Tensions have flared once again as Pakistan launched calibrated air strikes along its border with Afghanistan, breaking months of relative peace. Information Minister Attaullah Tarar confirmed on Wednesday that four militant targets were destroyed, killing 26 terrorists. He stated the strikes were a direct response to recent terrorist incidents in Pakistan, emphasizing that the safety of Pakistani citizens remains the top priority.

Taliban Denies Allegations, Claims Civilian Casualties

Conversely, the Taliban government's spokesman, Zabihullah Mujahid, reported that the strikes hit targets in Kunar, Khost, and Paktika provinces. He claimed that 13 people, including 11 children, a woman, and an elderly man, lost their lives. The Afghan government strongly rejected Pakistan's long-standing claims of harboring terrorists and reiterated that its soil is not being used to threaten any nation's security.

First Major Escalation Since February

This marked the first significant cross-border military action since February, when deadly clashes claimed hundreds of lives. World leaders continue to urge both nations to cease hostilities and maintain the ceasefire framework agreed upon last October.

Comments