پاک افغان سرحد پر کشیدگی؛ پاکستان کے فضائی حملوں میں 26 دہشت گرد ہلاک، افغان طالبان کا جانی نقصان کا دعویٰ
پاکستان کا مؤقف: شہریوں کا تحفظ پہلی ترجیح ہے
وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ فضائی کارروائی پاکستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ ان حملوں میں سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، ایک تربیتی مرکز اور اسلحہ کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین اور ناگزیر ترجیح ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت پر یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان دہشت گردوں کو پناہ فراہم کر رہی ہے جو پاکستان میں داخل ہو کر معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ تاہم، کابل میں موجود طالبان حکومت ان الزامات کی مسلسل تردید کرتی آئی ہے۔ فروری کے بعد یہ پہلا بڑا فوجی ٹکراؤ ہے، جس نے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تناؤ میں یکسر اضافہ کر دیا ہے۔
افغان طالبان کا ردِعمل اور صوبوں کی صورتحال
افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی فضائی حملوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں افغان صوبوں کنڑ، خوست اور پکتیکا میں کی گئیں۔ افغان حکومت کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- جانی نقصان کا دعویٰ: طالبان ترجمان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 11 بچوں، ایک خاتون اور ایک عمر رسیدہ شخص سمیت 13 افراد جان بحق ہوئے ہیں۔
- سرزمین کے استعمال کی تردید: افغان حکومت نے ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ ان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کی سیکیورٹی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
- عالمی برادری کی اپیلیں: فروری کی شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد، جس میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی تھیں، عالمی رہنماؤں نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کے بعد اس تازہ ترین فوجی کارروائی نے خطے کی صورتحال کو ایک بار پھر حساس اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Comments
Post a Comment