حافظ حفیظ الرحمن کے دورے پر ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی
ذرائع کے مطابق تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اور سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے مذکورہ پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے حافظ حفیظ الرحمن کے پولنگ اسٹیشن کے اندر داخل ہونے پر شدید اعتراض اٹھایا۔ یہ اعتراض دیکھتے ہی دیکھتے تلخ کلامی میں بدل گیا اور دونوں طرف سے موجود مشتعل کارکنان نے ایک دوسرے پر گھونسوں اور لاتوں کی برسات کر دی، جس سے وہاں بھگدڑ مچ گئی۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ جس وقت یہ ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا، نگران وزیر داخلہ ساجد بیگ بھی خود اسی پولنگ اسٹیشن پر موجود تھے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری نے مداخلت کی اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اضافی نفری کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
انتخابی عمل اور سیکیورٹی صورتحال
پولنگ اسٹیشن نمبر 403 پر پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے انتظامیہ متحرک ہو چکی ہے اور درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:
- پولیس کی بھاری نفری: ہنگامہ آرائی کو روکنے اور پولنگ کا عمل پرامن بنانے کے لیے پولیس نے پوزیشنز سنبھال لی ہیں۔
- نگران وزیر داخلہ کی موجودگی: نگران وزیر داخلہ ساجد بیگ خود موقع پر موجود رہ کر سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
- ووٹرز میں خوف و ہراس: کارکنوں کے درمیان اس تصادم کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کے لیے آئے ہوئے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
جی بی اے 2 کا یہ حلقہ سیاسی لحاظ سے انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے اور اس تصادم کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

Comments
Post a Comment