چڑھائی کے دوران خونی حادثہ اور ریسکیو آپریشن کی تفصیلات
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، جاں بحق ہونے والے فرانسیسی کوہ پیما پیئر گیلوم ایک تین رکنی بین الاقوامی کوہ پیمائی مہم کا حصہ تھے جو اس فلک بوس چوٹی کو سر کرنے کے مشن پر تھی۔ چڑھائی کے دوران اچانک بلندی سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا تودہ ان کے اوپر آ گرا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ مقامی حکام، پولیس اہلکاروں، رضاکاروں اور کوہ پیمائی کے مقامی معاون عملے (High Altitude Porters) پر مشتمل ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر ریکوری آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ ہلاک ہونے والے کوہ پیما کی لاش کو بیس کیمپ تک منتقل کیا جا سکے۔
انتظامیہ کے لیے اس وقت سب سے بڑی پریشانی مہم کے دیگر دو ارکان بنے ہوئے ہیں، جو حادثے کے بعد سے ابھی تک بیس کیمپ واپس نہیں پہنچ سکے اور ان سے رابطہ منقطع ہے۔ ریسکیو حکام ان کا سراغ لگانے اور ان کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے یہ پہاڑی علاقے جہاں دنیا بھر کے مہم جوؤں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، وہاں خراب موسم اور برفانی تودے پل بھر میں زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: موت کی گھاٹی بنتے پہاڑ اور گلوبل وارمنگ کا خطرہ
اس افسوسناک واقعے پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں حالیہ برسوں کے دوران برفانی تودے گرنے (Avalanches) اور گلیشیئرز پھٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی صدیوں پرانی برف تیزی سے پگھل رہی ہے، جس کے باعث چٹانیں کمزور ہو کر گرتی ہیں۔ کوہ پیمائی بلاشبہ ایک مہم جوئی ہے، لیکن انٹرنیشنل مہمات کے روٹس، موسم کی لائیو مانیٹرنگ اور ایمرجنسی ریسکیو کے نظام کو مزید جدید بنانا ہوگا تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔
پاکستان کے پہاڑوں میں ماضی کے ہولناک حادثات کا ریکارڈ:
کٹو (K2) اور نانگا پربت سمیت پاکستان کی دیگر چوٹیاں ماضی میں بھی کئی نامور کوہ پیماؤں کی آخری آرام گاہ بن چکی ہیں:
- علی سدپارہ کا سانحہ (2021): پاکستان کے ہیرو محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جوان پابلو سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہوئے اور بعد میں ان کی لاشیں ملیں انٹرنیٹ پر طوفان مچ گیا۔
- نانگا پربت پر حملہ (2013): نانگا پربت کے بیس کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے 10 غیر ملکی کوہ پیماؤں کو قتل کر دیا تھا، جس نے ملکی سیاحت کو شدید دھچکا پہنچایا۔
- کے ٹو کا بلیک سمر (2008): کے ٹو کی تاریخ کا بدترین حادثہ جب "بوٹل نیک" کے مقام پر برفانی تودہ گرنے سے مختلف ممالک کے 11 کوہ پیما ایک ہی دن میں ہلاک ہو گئے تھے۔
بلتستان پیک پر شروع ہونے والا یہ ریسکیو آپریشن انتہائی کٹھن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں لاپتہ ہونے والے دیگر دو غیر ملکی کوہ پیماؤں کی بحفاظت سائننگ آؤٹ اور واپسی پر لگی ہوئی ہیں۔

Comments
Post a Comment