کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کے امیگریشن سیل نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بیرونِ ملک جانے والی تین خواتین مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر دیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق، ان خواتین کو جرمنی کے جعلی اسٹوڈنٹ ویزے پر سفر کرنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا ہے، جس سے یورپ بھیجنے والے ایک بڑے انسانی اسمگلنگ اور جعل سازی کے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے۔
مشکوک دستاویزات اور امیگریشن کی کارروائی
ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ہونے والی تینوں خواتین مسافر نجی ایئرلائن کی پرواز QR-611 کے ذریعے کراچی سے دوحہ اور پھر وہاں سے جرمنی جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچی تھیں۔ امیگریشن کاؤنٹر پر چیکنگ کے دوران جب ان کے پاس موجود جرمن اسٹوڈنٹ ویزا اور متعلقہ دستاویزات کا معائنہ کیا گیا، تو وہ مشکوک پائے گئے۔ مینوئل اور ڈیجیٹل اسکریننگ کے بعد تصدیق ہوئی کہ خواتین کے پاس موجود جرمنی کے ویزے اور دیگر تعلیمی دستاویزات مکمل طور پر جعلی ہیں۔
ویزے کی جعل سازی ثابت ہونے پر ایف آئی اے امیگریشن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ان کا سفر منسوخ کیا اور تینوں خواتین مسافروں کو جہاز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا۔
لاکھوں روپے کے عوض ویزا حاصل کرنے کا انکشاف
ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار خواتین مسافروں نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ جعلی اسٹوڈنٹ ویزے اور دستاویزات خود تیار نہیں کیں، بلکہ ایک ایجنٹ کے ذریعے حاصل کی تھیں:
- بھاری رقوم کی ادائیگی: خواتین نے بتایا کہ انہوں نے جرمنی پہنچنے اور وہاں کے اسٹوڈنٹ ویزے کے عوض گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک ویزا ایجنٹ کو لاکھوں روپے ادا کیے تھے۔
- ایجنٹ کا نیٹ ورک: ایجنٹ نے انہیں یہ کہہ کر مطمئن کیا تھا کہ یہ دستاویزات بالکل اصل ہیں اور وہ آسانی سے جرمنی امیگریشن کلیئر کر لیں گی۔
- اینٹی ہیومن اسمگلنگ سیل کے حوالے: ایف آئی اے حکام نے ابتدائی تفتیش مکمل کرنے کے بعد تینوں خواتین کو مزید قانونی کارروائی، ایجنٹ کی گرفتاری اور مقدمے کے اندراج کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن اسمگلنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا ہے۔
ایف آئی اے نے گوجرانوالہ کے نامزد ویزا ایجنٹ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس گروہ کے دیگر کارندوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

Comments
Post a Comment