رضوان پارک کے قریب فلمی اسکرپٹ: جب اپنے ہی دغا دے گئے
تھانہ جوہر آباد میں درج مقدمے کے متن کے مطابق، یہ واقعہ 12 جون کو اس وقت پیش آیا جب نجی سیکیورٹی کمپنی (SOS) کی کیش وین طارق روڈ سے 30 کروڑ روپے کا بھاری کیش لے کر واٹر پمپ کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں رضوان پارک کے پاس گاڑی کے کرو چیف واجد علی نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا۔ ڈرائیور جیسے ہی کچھ سامان خریدنے نیچے اترا، کرو چیف فون پر کسی کو سگنل دینے لگا۔ اسی دوران ایک سیاہ رنگ کی ویگو گاڑی پیچھے آکر رکی اور 4 مسلح ملزمان نمودار ہوئے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ملزمان کے آتے ہی کرو چیف واجد علی نے خود گاڑی کا پچھلا دروازہ بند کیا اور بعد میں والٹ (کیش لاکر) کی چابیاں بھی ملزمان کے حوالے کر دیں۔ گارڈز کے ہاتھ باندھ کر کیش وین کو اغوا کیا گیا اور کچھ فاصلے پر جا کر پورا 30 کروڑ روپیہ ویگو گاڑی میں منتقل کر دیا گیا۔ جب گارڈز نے کسی طرح ہاتھ کھولے، تو وہاں نہ ویگو گاڑی تھی اور نہ ہی ان کا کرو چیف واجد علی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مفرور کرو چیف اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: کیا سیکیورٹی کمپنیاں خود خطرہ بن چکی ہیں؟
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی نجی سیکیورٹی کمپنی کا اپنا ملازم ہی کروڑوں روپے لے کر فرار ہوا ہو۔ یہ واردات پاکستان کے بینکنگ اور کارپوریٹ سیکٹر کے سیکیورٹی آڈٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب کروڑوں روپے کی نقل و حمل کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو سونپ دی جاتی ہے جن کی مکمل بیک گراؤنڈ ویریفکیشن (Background Verification) نہیں ہوتی، تو ایسے لرزہ خیز واقعات جنم لیتے ہیں۔ سیکیورٹی گارڈز کی کم تنخواہیں اور کمپنیوں کا ناقص مانیٹرنگ سسٹم اس جرائم کی بڑی وجہ ہے۔
کیش وین ڈکیتیوں کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
اگر ہم ماضی کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں، تو پاکستان میں کیش وین ڈکیتیوں کے پیچھے ہمیشہ اندرونی ملازمین ہی ماسٹر مائنڈ نکلے ہیں:
- کراچی کی سب سے بڑی ڈکیتی (2021): کراچی کے علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر ایک سیکیورٹی کمپنی کا ڈرائیور اکیلا ہی کیش وین سے 20 کروڑ 50 لاکھ روپے لے کر مفرور ہو گیا تھا، جس میں بعد میں اندرونی نیٹ ورک ملوث پایا گیا۔
- گلشنِ اقبال واردات (2023): بینک کو کیش سپلائی کرنے والی وین کا گارڈ اپنے ہی ساتھیوں کو یرغمال بنا کر ساڑھے 6 کروڑ روپے لے اڑا تھا۔
- ایس او پی (SOP) کی خلاف ورزی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین کے مطابق، کیش منتقل کرتے وقت گاڑی کو راستے میں کسی بھی غیر متعلقہ جگہ روکنا سخت منع ہے، لیکن اس کیس میں ڈرائیور کا سامان لینے اترنا اور کرو چیف کا فون استعمال کرنا واضح طور پر طے شدہ پلان کا حصہ لگتا ہے۔
30 کروڑ روپے کی یہ ڈکیتی سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ جب تک نجی کمپنیاں اپنے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار کو جدید اور سخت نہیں بناتیں، اس وقت تک ایسے "لوٹ سیل" کے واقعات کو روکنا ناممکن رہے گا۔

Comments
Post a Comment