سائبر اسپیس میں جنگ! اسرائیل پر ایرانی ہیکرز کے حملوں میں 300 فیصد ریکارڈ اضافہ

Digital matrix screen showing cyber warfare and security breach graphics representing Iran Israel tension
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ عسکری اور سفارتی تصادم اب ڈیجیٹل دنیا میں ایک خوفناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسرائیل کے ایک اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار کے مطابق، رواں سال ایران کے خلاف شروع ہونے والے مشترکہ امریکہ-اسرائیل فوجی آپریشن کے بعد سے اسرائیل پر ایرانی ہیکرز اور سائبر حملوں کی تعداد میں ہوش رُبا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جہاں زمینی اور فضائی محاذ گرم ہیں، وہاں انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی ایک دوسرے کے حساس نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کی اعلانیہ جنگ لڑی جا رہی ہے۔

1600 سے 4800 حملے: اسرائیلی سائبر چیف کا ہلا دینے والا انکشاف

اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل 'یوسی کارادی' نے جرمن اخبار "ڈی ویلٹ" (Die Welt) کو دیے گئے ایک سنسنی خیز انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ پچھلے سال جون 2025 میں، جب اسرائیل ایران کے خلاف آپریشن کر رہا تھا، تب انہیں ماہانہ تقریباً 1,600 دشمنانہ سائبر حملوں کا سامنا تھا۔ لیکن رواں سال (جون 2026) کے اسی مہینے میں یہ تعداد تین گنا بڑھ کر 4,800 سائبر حملوں تک جا پہنچی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مادی یا روایتی میدانِ جنگ میں تو جنگ بندی ہو سکتی ہے، لیکن سائبر اسپیس میں کوئی سیز فائر نہیں ہوتا، یہاں چوبیس گھنٹے جنگ جاری رہتی ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سائبر حملے اسرائیل کے انتہائی اہم انفراسٹرکچر، مرکزی تنظیموں، دفاعی نیٹ ورکس اور چھوٹے سے درمیانے درجے کی کمپنیوں کو مفلوج کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں میں لا فرمز اور اکاؤنٹنگ کمپنیوں جیسے چھوٹے اداروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ یوسی کارادی نے تسلیم کیا کہ ہیکرز کے کچھ گروپس تکنیکی لحاظ سے بے حد ماہر اور خطرناک ہیں۔ اگرچہ اسرائیل اب تک اپنے اہم ترین بجلی، پانی اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو بچانے میں کامیاب رہا ہے، لیکن کئی چھوٹی کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز کا پورا ڈیٹا ہیکرز نے مکمل طور پر اڑا (Wipe) دیا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: جدید دور کی جنگیں اور خاموش سائبر ہتھیار

اکیسویں صدی میں اب جنگیں صرف بارود اور میزائلوں سے نہیں جیتی جا سکتیں۔ سائبر حملے اب کسی بھی ملک کی معیشت، مواصلات اور دفاعی نظام کو بغیر ایک بھی گولی چلائے گھٹنوں پر لانے کا سب سے مہلک ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایران پر حالیہ حملوں کے جواب میں جس طرح ایرانی ہیکرز نے اسرائیلی کمرشل اور حکومتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا ہے، وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ تہران اپنے ڈیجیٹل ہتھیاروں کو بے حد جدید کر چکا ہے۔ یہ سائبر جنگ آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو مزید پیچیدہ اور سنسنی خیز بنا دے گی کیونکہ اس کا اثر براہِ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔

ایران اسرائیل سائبر جنگ کا تاریخی پسِ منظر:

ان دونوں روایتی حریفوں کے درمیان انٹرنیٹ پر لڑی جانے والی خفیہ جنگوں کا ریکارڈ کافی پرانا اور ہولناک ہے:

  • اسٹکس نیٹ وائرس (Stuxnet): 2010 میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایک انتہائی پیچیدہ وائرس کے ذریعے ایران کے نطنز نیوکلیئر پلانٹ کے سینٹری فیوجز کو تباہ کر دیا تھا، جسے تاریخ کا پہلا بڑا سائبر حملہ مانا جاتا ہے۔
  • اسرائیلی واٹر سسٹم پر حملہ (2020): ایرانی ہیکرز نے اسرائیل کے مقامی واٹر سپلائی سسٹم کو ہیک کر کے پانی میں کلورین کی مقدار بڑھانے کی کوشش کی تھی، جسے اسرائیلی اداروں نے بروقت ناکام بنایا۔
  • ایرانی فیول اسٹیشنز ہیک (2023): اسرائیل نواز ہیکنگ گروپس نے ایران کے ملک گیر گیس اسٹیشنز کا پورا سافٹ ویئر سسٹم ہیک کر کے پٹرول پمپوں پر سپلائی معطل کر دی تھی، جس سے پورے ایران میں بحران پیدا ہوا تھا۔

ڈیجیٹل دنیا کی یہ پوشیدہ جنگ اب باقاعدہ فرنٹ لائن پر آ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل ان 4800 ماہانہ حملوں کے دباؤ کو کب تک جھیل پاتا ہے اور کیا امریکہ کے جدید ترین سائبر سسٹمز اسرائیل کو مکمل تحفظ فراہم کر سکیں گے یا نہیں۔


⬇️ Click to Read this International Story in English

Cyber Warfare Escalates: Iranian Attacks on Israel Surge by 300% Amid Offensive


JERUSALEM: Iranian cyberattacks targeting Israeli systems have dramatically skyrocketed following the launch of the joint US-Israeli military offensive against Iran. Yossi Karadi, Director General of Israel’s National Cyber Directorate, revealed that hostile cyber incidents jumped from 1,600 in June 2025 to a staggering 4,800 in June 2026.

No Ceasefire in Cyberspace

Speaking to the German newspaper Die Welt, Karadi emphasized that unlike physical warfare, there is no ceasefire in cyberspace. The highly skilled attacks have targeted Israel’s critical infrastructure, corporate firms, and central organizations. While primary state infrastructure has successfully fended off the breaches, several vulnerable mid-sized companies have had their entire internal computer networks wiped out by the hackers.

Comments