جنگ بندی کے باوجود دھوکہ؛ غزہ میں اسرائیلی فوج کے 40 مستقل اڈے قائم، نئی تعمیرات کا انکشاف

Satellite imagery map displaying forty permanent Israeli military outposts and trenches across the Gaza Strip
غزہ: اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پٹی میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے بجائے مزید مضبوط اور مستقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، غزہ بھر میں اس وقت اسرائیلی فوج کے 40 مستقل فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں سے 8 بڑے فوجی اڈے اکتوبر 2025ء کی جنگ بندی کے بعد بالکل نئے تعمیر کیے گئے ہیں، جو اسرائیل کے طویل مدتی قبضے کے ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر سے خان یونس اور بیت لاہیا میں نئے اڈوں کا انکشاف

الجزیرہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے کہ خان یونس کے مشرقی قبرستان کی جگہ پر ایک نیا فوجی اڈہ قائم کیا گیا ہے۔ اس جگہ پر تعمیراتی کام نومبر 2025ء میں شروع ہوا تھا اور مئی 2026ء تک یہ مقام فوجی گاڑیوں، رہائشی ڈھانچوں اور آپریشنل فیسیلیٹیز سے مکمل طور پر لیس ہو چکا ہے۔

اس کے علاوہ بیت لاہیا سمیت شمالی غزہ کے مختلف علاقوں میں بھی نئے فوجی مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ پرانے اڈوں کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ کئی مقامات پر فوجی تنصیبات کے گرد گہری خندقیں کھودی گئی ہیں اور دفاعی ڈھانچے مضبوط بنائے گئے ہیں تاکہ فلسطینی آبادیوں کے گرد ایک وسیع حصار قائم کیا جا سکے۔ اس فوجی نیٹ ورک کے باعث شہریوں کی نقل و حرکت اور زرعی زمینوں تک رسائی شدید محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

ماہرین کا تجزیہ اور شہداء کے تازہ اعداد و شمار

فلسطینی سیاسی تجزیہ کار عبداللّٰہ عقرباوی کا کہنا ہے کہ یہ تعمیرات عارضی سیکیورٹی اقدامات نہیں بلکہ غزہ پر طویل مدتی کنٹرول کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، جو مستقبل میں مزید بڑے فوجی آپریشنز کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • کل نقصانات (اکتوبر 2023ء سے): اسرائیلی حملوں میں اب تک تقریباً 73,000 فلسطینی شہید اور 172,919 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
  • جنگ بندی کے بعد کی صورتحال: جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود گزشتہ 7 ماہ کے دوران کم از کم 929 فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 2,811 افراد زخمی ہوئے۔

ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے دعووں کے پیچھے غزہ کو مستقل طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرنے کی خوفناک سازش جاری ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Gaza Ceasefire Violated: Israel Builds 40 Permanent Military Bases for Long-Term Control


GAZA: Despite the agreed ceasefire, Israel has significantly fortified its military presence across the Gaza Strip. An investigative report by Al Jazeera reveals that the Israeli military currently operates 40 permanent bases in Gaza, 8 of which were newly constructed following the October 2025 ceasefire agreement.

Satellite Imagery Reveals New Fortifications

According to satellite data, a major new military base was established in Khan Younis over an eastern cemetery site, starting construction in November 2025 and reaching full operational capacity with residential structures and armored vehicles by May 2026. New outposts have also emerged in Beit Lahia and northern Gaza, surrounded by deep trenches and defensive barriers. This expanding network chokes Palestinian residential areas and cuts off access to agricultural lands.

Casualty Figures and Expert Commentary

Political analyst Abdullah Aqrabawi noted that these fortifications signify a permanent blueprint for long-term territorial control rather than temporary security protocols. Meanwhile, data from the Gaza Ministry of Health confirms that since October 2023, nearly 73,000 Palestinians have been martyred and over 172,919 injured. Even during the last 7 months of the nominal ceasefire, at least 929 Palestinians lost their lives while 2,811 were wounded.

Comments