حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 43 کھرب روپے کے خطیر فنڈز سے تیار کردہ مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام (NDP) کی منظوری دے دی ہے۔ سالانہ پلان رابطہ کمیٹی نے نئے مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 42.64 کھرب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی سفارش کی ہے، جس کی حتمی توثیق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس میں کی جائے گی۔ اس ترقیاتی پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی تین چوتھائی (75 فیصد) فنڈنگ صوبائی حکومتیں کریں گی۔
وفاقی بجٹ، بیرونی امداد اور ڈیموں کے لیے فنڈز
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں 11.26 کھرب روپے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کی سفارش کی گئی ہے، جس میں 267 ارب روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم نے وزارتِ خزانہ کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید 200 ارب روپے کی اضافی گنجائش پیدا کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
ملک میں پانی اور بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے تین بڑے ڈیموں کے لیے فنڈز تجویز کیے گئے ہیں:
- داسو ڈیم: ترقیاتی منصوبے میں داسو ڈیم کے لیے 25 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
- دیامر بھاشا ڈیم: اس اہم منصوبے کے لیے بھی 25 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
- مہمند ڈیم: مہمند ڈیم کی تعمیر کو تیز کرنے کے لیے سب سے زیادہ یعنی 39 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
مخلوط حکومت کا اتحاد اور ارکانِ اسمبلی کی اسکیمیں
وفاقی وزیر احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مخلوط حکومت کو برقرار رکھنے اور اتحادیوں کو مطمئن رکھنے کے لیے ان کے تجویز کردہ منصوبوں پر 87 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی، سرکاری بنچوں کے ارکانِ اسمبلی (MNAs) کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 70 ارب روپے مخصوص کیے گئے ہیں، جس کے تحت ہر رکن کی تجویز کردہ اسکیم کے لیے 50 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔
تاہم، احسن اقبال نے خبردار کیا کہ ملک میں جاری پرانے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے 108 کھرب روپے کی خطیر رقم درکار ہے، اور جس رفتار سے فنڈز مل رہے ہیں، ان پرانے منصوبوں کو پورا ہونے میں ایک عشرہ (10 سال) لگ سکتا ہے۔ مالی مشکلات کے باعث لاہور بہاولنگر موٹروے (جس کی کل لاگت 263 ارب روپے ہے) کے لیے صرف 25 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ سندھ حکومت نے پنجاب موٹروے کو وفاقی بجٹ میں شامل کرنے کی مخالفت کی ہے۔
چاروں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کا موازنہ
نئے مالی سال میں وفاق کے مقابلے میں صوبوں کا ترقیاتی حجم کافی بڑا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
| صوبہ |
تجویز کردہ بجٹ کا حجم |
رواں سال سے فرق |
| پنجاب |
14.5 کھرب روپے |
7 فیصد زائد (وفاق سے بھی ایک تہائی زیادہ) |
| سندھ |
816 ارب روپے |
29 ارب روپے کم |
| خیبر پختونخوا |
564 ارب روپے |
63 ارب روپے زائد |
| بلوچستان |
308 ارب روپے |
53 ارب روپے کم |
شدید مالی مشکلات کے باعث حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کا اصل محور صرف قومی اہمیت کے حامل منصوبے ہوں گے تاکہ ملکی معاشی نمو کو تیز کیا جا سکے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
New Fiscal Year: Outlay of 43 Trillion PKR National Development Program Approved
The federal setup has introduced a massive 43 trillion PKR National Development Program (NDP) for the upcoming fiscal framework, with the provincial governments managing three-fourths of the total project funding. The Annual Plan Coordination Committee recommended a gross layout of 42.64 trillion PKR, which awaits final formal ratification by the National Economic Council (NEC) chaired by Prime Minister Shehbaz Sharif.
Federal PSDP Share and Allocations for Mega Dams
Chaired by Minister for Planning Ahsan Iqbal, the committee recommended an 11.26 trillion PKR federal Public Sector Development Program (PSDP), including 267 billion PKR in foreign assistance. Prime Minister Sharif has also directed the Finance Ministry to generate an additional 200 billion PKR fiscal space for the proposed federal framework. Major infrastructure allocations include 25 billion PKR each for the Dasu and Diamer Bhasha dams, and 39 billion PKR for the Mohmand dam project.
Coalition Requirements and Provincial Breakdown
To sustain the ruling alliance, 87 billion PKR has been designated for projects recommended by coalition partners. Additionally, 70 billion PKR is set aside for treasury bench lawmakers' schemes, translating into 500 million PKR per member. On the provincial front, Punjab leads with a massive 14.5 trillion PKR development plan (a 7% rise, outpacing the federal budget by a third). Sindh’s development outlay is set at 816 billion PKR (down by 29 billion), Khyber Pakhtunkhwa stands at 564 billion PKR (up by 63 billion), while Balochistan’s plan is valued at 308 billion PKR (down by 53 billion).
Amid strict financial constraints, the core objective of the upcoming PSDP remains strategically focused on high-priority national assets capable of driving immediate economic growth.
Comments
Post a Comment