جاپان کا بڑا فیصلہ! 48 سال بعد ویزا فیسوں میں 5 گنا بھاری اضافہ

Japanese visa document next to Japanese Yen currency notes representing the price hike
اگر آپ جاپان گھومنے یا وہاں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اب آپ کو اپنی جیب زیادہ ڈھیلی کرنی ہوگی۔ جاپانی حکومت نے غیر ملکیوں کے لیے ویزا فیسوں میں ریکارڈ 5 گنا (Fivefold) اضافہ کر دیا ہے۔ جاپان کی تاریخ میں 1978 کے بعد، یعنی تقریباً نصف صدی بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ویزا فیسوں میں اس قدر بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا، جس کے بعد جاپان کا سفر اور وہاں قیام پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا ہو جائے گا۔

سنگل اور ملٹی پل انٹری ویزا کی نئی قیمتیں

نئی پالیسی کے تحت، سنگل انٹری ویزا کی فیس 3,000 ین سے بڑھا کر براہِ راست 15,000 ین کر دی گئی ہے۔ اسی طرح، بار بار سفر کرنے والوں کے لیے ملٹی پل انٹری ویزا کی فیس 6,000 ین سے چھلانگ لگا کر 30,000 ین تک پہنچ چکی ہے۔ جاپانی وزیرِ خارجہ توشیمتسو موٹیگی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی مارکیٹ میں جاپانی کرنسی 'ین' کی قدر میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے، اور انہیں امید ہے کہ اس سے جاپان آنے والے سیاحوں کی تعداد پر کوئی فوری منفی اثر نہیں پڑے گا۔

تبصرہ و تجزیہ: گرتا ہوا 'ین' اور ورک ویزا والوں کو جھٹکا

اس فیصلے کا گہرا معاشی تجزیہ یہ ہے کہ سال 2021 سے جاپانی کرنسی 'ین' مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور اس وقت 40 سال کی تاریخی ترین نچلی سطح پر ہے۔ کرنسی سستی ہونے کی وجہ سے گزشتہ سال جاپان میں ریکارڈ 42.7 ملین بین الاقوامی سیاح آئے، جس سے جاپان کے شہروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں رہی۔ فیسیں بڑھانے کا ایک مقصد اس بے پناہ رش (Overtourism) کو کنٹرول کرنا اور اپنی فیسوں کو دنیا کی دیگر بڑی معیشتوں (G7) کے برابر لانا ہے۔

سیاحت کے علاوہ جاپانی پارلیمنٹ نے ورک پرمٹ اور مستقل رہائش (Permanent Residency) کی فیسوں کی بالائی حد کو بھی 10,000 ین سے بڑھا کر 300,000 ین کر دیا ہے، جو کہ 30 گنا بنتا ہے۔ یہ ان غیر ملکیوں کے لیے ایک بڑا معاشی جھٹکا ہے جو وہاں طویل قیام یا روزگار کے لیے موجود ہیں۔

عالمی سطح پر ویزا فیسوں کا موازنہ :

جاپان کا یہ فیصلہ اسے دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے، جہاں ویزا فیسیں پہلے ہی کافی زیادہ ہیں:

  • امریکہ (USA): امریکہ میں غیر مہاجر (Non-immigrant) ویزا درخواست کی فیس 185 ڈالرز سے لے کر 315 ڈالرز کے درمیان ہے، جو جاپان کی نئی فیسوں سے بھی زیادہ ہے۔
  • برطانیہ (UK): برطانیہ کے لیے 6 ماہ کے اسٹینڈرڈ شارٹ ٹرم ویزا کی فیس 135 پاؤنڈز مقرر ہے، جو دنیا کے مہنگے ترین ویزوں میں شمار ہوتی ہے۔
  • جاپان کا پچھلا ریکارڈ: جاپان نے آخری بار اپنی ویزا فیسوں میں تبدیلی 1978 میں کی تھی، جس کے بعد اب جاپان اپنی امیگریشن سروسز کو جدید اور معاشی طور پر مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ جاپان اب سستی سیاحت کا مرکز نہیں رہے گا۔ اگرچہ ان کا دعویٰ ہے کہ سیاح آتے رہیں گے، لیکن ایشیا اور بالخصوص پاکستان جیسے ممالک کے شہریوں کے لیے، جہاں پہلے ہی روپے کی قدر کم ہے، جاپان کا ویزا حاصل کرنا اب ایک مہنگا خواب بننے جا رہا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Japan Quintuples Foreigner Visa Fees in Historic Hike Since 1978


TOKYO: Japan has announced a massive fivefold increase in tourist and multi-entry visa fees for foreigners, effective from July 1st. Single-entry visas will jump from 3,000 yen to 15,000 yen, while multi-entry visas will soar to 30,000 yen, marking the country's first price revision in nearly 50 years.

Aligning with G7 Standards Amid Weak Yen

Foreign Minister Toshimitsu Motegi stated that the price hike reflects global inflation and historic fluctuations in the exchange rate of the Japanese yen, which currently hovers near 40-year lows. In addition to tourist visas, Japan's Upper House has enacted steeper caps on permanent residency and status extension applications to align immigration structures with other G7 economies like the US and UK.

Comments