سنگل اور ملٹی پل انٹری ویزا کی نئی قیمتیں
نئی پالیسی کے تحت، سنگل انٹری ویزا کی فیس 3,000 ین سے بڑھا کر براہِ راست 15,000 ین کر دی گئی ہے۔ اسی طرح، بار بار سفر کرنے والوں کے لیے ملٹی پل انٹری ویزا کی فیس 6,000 ین سے چھلانگ لگا کر 30,000 ین تک پہنچ چکی ہے۔ جاپانی وزیرِ خارجہ توشیمتسو موٹیگی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی مارکیٹ میں جاپانی کرنسی 'ین' کی قدر میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے، اور انہیں امید ہے کہ اس سے جاپان آنے والے سیاحوں کی تعداد پر کوئی فوری منفی اثر نہیں پڑے گا۔
تبصرہ و تجزیہ: گرتا ہوا 'ین' اور ورک ویزا والوں کو جھٹکا
اس فیصلے کا گہرا معاشی تجزیہ یہ ہے کہ سال 2021 سے جاپانی کرنسی 'ین' مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور اس وقت 40 سال کی تاریخی ترین نچلی سطح پر ہے۔ کرنسی سستی ہونے کی وجہ سے گزشتہ سال جاپان میں ریکارڈ 42.7 ملین بین الاقوامی سیاح آئے، جس سے جاپان کے شہروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں رہی۔ فیسیں بڑھانے کا ایک مقصد اس بے پناہ رش (Overtourism) کو کنٹرول کرنا اور اپنی فیسوں کو دنیا کی دیگر بڑی معیشتوں (G7) کے برابر لانا ہے۔
سیاحت کے علاوہ جاپانی پارلیمنٹ نے ورک پرمٹ اور مستقل رہائش (Permanent Residency) کی فیسوں کی بالائی حد کو بھی 10,000 ین سے بڑھا کر 300,000 ین کر دیا ہے، جو کہ 30 گنا بنتا ہے۔ یہ ان غیر ملکیوں کے لیے ایک بڑا معاشی جھٹکا ہے جو وہاں طویل قیام یا روزگار کے لیے موجود ہیں۔
عالمی سطح پر ویزا فیسوں کا موازنہ :
جاپان کا یہ فیصلہ اسے دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے، جہاں ویزا فیسیں پہلے ہی کافی زیادہ ہیں:
- امریکہ (USA): امریکہ میں غیر مہاجر (Non-immigrant) ویزا درخواست کی فیس 185 ڈالرز سے لے کر 315 ڈالرز کے درمیان ہے، جو جاپان کی نئی فیسوں سے بھی زیادہ ہے۔
- برطانیہ (UK): برطانیہ کے لیے 6 ماہ کے اسٹینڈرڈ شارٹ ٹرم ویزا کی فیس 135 پاؤنڈز مقرر ہے، جو دنیا کے مہنگے ترین ویزوں میں شمار ہوتی ہے۔
- جاپان کا پچھلا ریکارڈ: جاپان نے آخری بار اپنی ویزا فیسوں میں تبدیلی 1978 میں کی تھی، جس کے بعد اب جاپان اپنی امیگریشن سروسز کو جدید اور معاشی طور پر مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ جاپان اب سستی سیاحت کا مرکز نہیں رہے گا۔ اگرچہ ان کا دعویٰ ہے کہ سیاح آتے رہیں گے، لیکن ایشیا اور بالخصوص پاکستان جیسے ممالک کے شہریوں کے لیے، جہاں پہلے ہی روپے کی قدر کم ہے، جاپان کا ویزا حاصل کرنا اب ایک مہنگا خواب بننے جا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment