روایتی بزنس ماڈل کی ناکامی اور چائنیز کمپنیوں کا خونی مقابلہ
ووکس ویگن گروپ، جس کے پاس آڈی (Audi)، بینٹلے (Bentley)، اسکوڈا (Skoda) اور سیٹ (Seat) جیسے بڑے برانڈز موجود ہیں اور جو دنیا بھر میں 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد ملازمین رکھتا ہے، اس وقت دوہرے دباؤ کا شکار ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ ہمارا روایتی کاروباری ماڈل اب مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جس کے تحت کاریں جرمنی میں ڈیزائن ہوتی تھیں، یورپ میں بنتی تھیں اور پوری دنیا میں ایکسپورٹ کی جاتی تھیں۔ اب دنیا بدل چکی ہے اور ٹیرف، مارکیٹ میں مندی اور سالانہ اربوں یوروز کے بوجھ نے کمپنی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس بحران کی سب سے بڑی وجہ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) اور ہائبرڈ کاروں کی مارکیٹ میں چین کی سستی اور جدید ترین کمپنیوں (جیسے BYD اور Geely) کا یورپ میں تیزی سے گھسنا ہے۔ چائنیز کمپنیوں نے یورپی مارکیٹ پر ایسا دھاوا بولا ہے کہ روایتی جرمن برانڈز ان کی قیمتوں اور اسپیڈ کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اگرچہ ووکس ویگن نے حال ہی میں چین کی اپنی مقامی مارکیٹ میں ٹویوٹا کے ساتھ مل کر بی وائی ڈی (BYD) کو سیلز میں عارضی طور پر پیچھے چھوڑا تھا، لیکن بی وائی ڈی کے سربراہ نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اگلے 5 سالوں میں دنیا کی سب سے بڑی آٹو کمپنی بن جائیں گے۔
الیکٹرک انقلاب اور یورپ کے صنعتی زوال کا آغاز
یہ صرف ایک کمپنی کا بحران نہیں، بلکہ پورے یورپ کے صنعتی زوال کا ایک بڑا سگنل ہے۔ یورپی اور خاص طور پر جرمن انجینئرنگ دہائیوں تک کمبسٹن انجن (پٹرول اور ڈیزل کاروں) کے بل بوتے پر دنیا پر راج کرتی رہی۔ لیکن جب دنیا الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی طرف شفٹ ہوئی، تو جرمن کمپنیوں نے اس تبدیلی کو اپنانے میں بہت سستی دکھائی۔ دوسری طرف چین نے بیٹری ٹیکنالوجی اور سستے مینوفیکچرنگ پلانٹس پر کھربوں ڈالرز لگا کر دنیا کو اپنے قابو میں کر لیا۔ اب ووکس ویگن کا جرمنی میں ہانوور، زویکاؤ، ایمڈن اور آڈی کا نیکرسولم پلانٹ بند کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر آپ وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتے، تو تاریخ آپ کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔
آٹوموبائل انڈسٹری کے بڑے بحرانوں کا سابقہ ریکارڈ:
گاڑیوں کی دنیا میں اس طرح کے بڑے معاشی بحرانوں اور پلانٹس کی بندش کی تاریخ پہلے بھی بہت خونی رہی ہے:
- جنرل موٹرز کا دیوالیہ پن (2009): امریکی آٹو جائنٹ جنرل موٹرز (GM) عالمی معاشی مندی کے باعث دیوالیہ ہو گئی تھی، جس کے بعد حکومت نے کھربوں ڈالرز کا بیل آؤٹ پیکیج دے کر اسے بچایا اور ہزاروں ملازمین فارغ ہوئے۔
- ووکس ویگن کا ڈیزل گیٹ اسکینڈل (2015): کاربن اخراج کے ٹیسٹ میں سافٹ ویئر کے ذریعے دھوکہ دہی پکڑے جانے پر ووکس ویگن کو دنیا بھر میں 30 ارب ڈالرز سے زائد کا جرمانہ ہوا تھا، جس نے کمپنی کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔
- فورڈ یورپ کی کٹوتیاں (2019-2024): امریکی کمپنی فورڈ نے بھی الیکٹرک گاڑیوں کی ریس میں پیچھے رہنے اور گرتے ہوئے منافع کی وجہ سے یورپ میں اپنے کئی پلانٹس بند کیے اور ہزاروں ملازمین کو ملازمتوں سے نکالا۔
ووکس ویگن کے سی ای او اولیور بلوم اگلے ماہ ہونے والی بورڈ میٹنگ میں 11 ارب یوروز کی بچت کے اس حتمی پلان پر دستخط کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جرمن یونینز اور حکومت اس بڑے معاشی جھٹکے کو کیسے سنبھالتی ہے۔

Comments
Post a Comment