لاشیں ٹرک کے نیچے اور اطراف سے برآمد، صرف 2 افراد زندہ بچے
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرک خراب ہونے کے بعد ڈرائیور اور مسافروں نے کئی دنوں تک اسے ٹھیک کرنے کی تگ و دو کی، لیکن سنسان صحرا میں ان کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ اس دوران شدید ترین گرمی کی وجہ سے گاڑی میں موجود پانی کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو گیا، جس سے مسافر ایک ایک کر کے موت کے منہ میں چلے گئے۔ ریسکیو ٹیموں کو زیادہ تر لاشیں ٹرک کے نیچے تپتی ریت اور اس کے اطراف سے ملیں۔ اس ہولناک واقعے میں صرف 2 افراد معجزاتی طور پر زندہ بچے، جو کئی کلومیٹر پیدل صحرا عبور کر کے قریبی آبادی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والے تمام افراد نائیجر کے شہری تھے، جن کی لاشوں کو شدید گرمی اور خراب حالت کے باعث ریسکیو ٹیموں نے صحرا ہی میں اجتماعی قبروں میں سپردِ خاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے دور افتادہ علاقے میں پیش آیا جہاں درجہ حرارت انتہائی بلند رہتا ہے اور میلوں تک انسانی آبادی یا مدد کا کوئی نام و نشان موجود نہیں ہوتا۔
ریسکیو ٹیم کی بروقت کارروائی، 60 سے زائد دیگر مسافروں کی جان بچا لی گئی
اس افسوسناک واقعے کی جگہ سے واپسی کے دوران ریسکیو ٹیم کی وجہ سے ایک اور بڑی تباہی ٹل گئی، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- ایک اور خراب ٹرک کی برآمدگی: واپسی کے سفر کے دوران فوجی امدادی ٹیم کو صحرا میں ایک اور ٹرک خراب حالت میں ملا، جس میں 60 سے زائد مسافر سوار تھے۔
- تین دن سے پھنسے مسافر: یہ دوسرا ٹرک بیٹری خراب ہونے کی وجہ سے گزشتہ 3 روز سے تپتے صحرا میں پھنسا ہوا تھا اور مسافر شدید نڈھال تھے۔
- امدادی کارروائی اور روانگی: ریسکیو ٹیم میں شامل فوجی اہلکاروں نے فوری طور پر ان پیاسے اور تھکے ہوئے مسافروں میں پانی تقسیم کیا، ٹرک کی بیٹری مرمت کی اور انہیں بحفاظت ان کی منزل کی طرف روانہ کیا۔
صحرائے صحارا کو عبور کرنے والے مسافروں کے لیے نقل و حمل کے ناقص ذرائع اور گرمی کی شدت ہر سال درجنوں قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔

Comments
Post a Comment