50 ملین پاؤنڈ کا معاہدہ منسوخ کرنے پر تنازعہ' امریکی ٹیک کمپنی کا لندن کے میئر صادق خان کے خلاف عدالت جانے کا اعلان
معاہدے کی منسوخی کی وجوہات اور صادق خان کا مؤقف
میٹروپولیٹن پولیس جرائم کی تحقیقات میں ڈیٹا اور انٹیلی جنس کے خودکار تجزیے کے لیے امریکی جاسوسی سافٹ ویئر کمپنی پالانٹیر کی خدمات حاصل کرنا چاہتی تھی۔ تاہم، میئر صادق خان نے مئی کے آخر میں اس عمل میں مداخلت کرتے ہوئے اسے روک دیا۔ میئر آفس کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل میں خریداری (Procurement) کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی اور پولیس نے دیگر کمپنیوں کو موقع دیے بغیر صرف پالانٹیر کے ساتھ اکیلے ہی پورا سودا طے کر لیا تھا۔
میئر صادق خان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی نظریے یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر نہیں کیا گیا، بلکہ یہ دیکھا گیا کہ اس عمل سے لندن کے شہریوں کے ٹیکس کے پیسوں کا صحیح اور شفاف استعمال ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ اب برطانوی میڈیا کے مطابق پالانٹیر کے وکلاء نے میئر آفس کو باقاعدہ خط لکھ کر اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کے ارادے سے آگاہ کر دیا ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے این ایچ ایس (NHS) معاہدے پر بھی نظرثانی
امریکی کمپنی پالانٹیر کو نہ صرف لندن میں بلکہ پورے برطانیہ میں شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کی وجہ کمپنی کے بعض متنازعہ بیانات اور نظریات ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے:
- این ایچ ایس معاہدے کا جائزہ: ٹیکنالوجی سیکریٹری لز کینڈل نے تصدیق کی ہے کہ حکومت برطانوی ہیلتھ سسٹم (NHS) کے ساتھ پالانٹیر کے 330 ملین پاؤنڈ کے معاہدے کا مکمل جائزہ لے رہی ہے اور اسے 2027 کے آغاز میں ختم کیا جا سکتا ہے۔
- پارلیمانی کمیٹی کی تشویش: برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی ٹیک کمپنیوں پر عوامی شعبے کا انحصار کم کرے، کیونکہ یہ قومی سلامتی کے لیے ایک کمزوری بن سکتا ہے۔
- حکومتی ارکان کا ردِعمل: ڈپٹی پرائم منسٹر ڈیوڈ لیمی اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی سرکاری معاہدوں میں تنوع (Diversification) لانے اور چند مخصوص امریکی کمپنیوں پر انحصار ختم کرنے کی حمایت کی ہے۔
برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ فرانس اور جرمنی جیسے ممالک پہلے ہی ایسی متنازعہ امریکی کمپنیوں سے دور رہے ہیں، اور اب برطانیہ کو بھی اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

Comments
Post a Comment