سرکاری نرخ بمقابلہ مارکیٹ کے تلخ حقائق: کڑا تجزیہ
اگرچہ اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا یہ امکان خوش آئند ہے، لیکن زمینی اور تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ لاہور سمیت ملک بھر میں کہیں بھی اوگرا کی مقررہ کردہ سرکاری قیمت پر ایل پی جی دستیاب نہیں ہوتی۔ مارکیٹ میں گیس مافیا اور دکاندار من مانے نرخوں پر گیس فروخت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں۔ جب تک سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد نہیں کروایا جاتا، تب تک کاغذی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہِ راست غریب صارفین تک پہنچنا ناممکن نظر آتا ہے۔
اس پورے معاملے پر گہرا تبصرہ یہ بنتا ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران اور قدرتی گیس کی لوڈ شیڈنگ اب بارہ مہینے کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں ایل پی جی غریب عوام کے چولہے جلانے کا آخری سہارا بچی ہے۔ اوگرا اگر قیمتوں میں کمی کا نوٹیفیکیشن جاری کرتا ہے، تو وزارتِ پٹرولیم اور مقامی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ دکانوں پر چھاپے ماریں اور بلیک میں گیس بیچنے والوں کو جیلوں میں ڈالیں، ورنہ یہ ریلیف صرف خبروں کی حد تک ہی محدود رہے گا۔
پاکستان میں ایل پی جی مافیا اور پرائسنگ کا پسِ منظر:
ملک میں گیس کی قیمتوں کے تعین اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف حکومتی اقدامات کا ماضی کا ریکارڈ درج ذیل ہے:
- من مانی قیمتیں اور اوگرا ایکٹ: اوگرا قوانین کے تحت لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹرز سرکاری قیمت سے زائد وصول نہیں کر سکتے، تاہم عملدرآمد کی کمزور شرح کے باعث لوکل مارکیٹ میں ہمیشہ 40 سے 60 روپے مہنگی گیس بیچی جاتی ہے۔
- موسمِ سرما اور گرمیاں: اب کوئی فرق نہیں رہا: ماضی میں صرف سردیوں میں گیس کی قلت پر ایل پی جی مہنگی ہوتی تھی، لیکن اب ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ سال بھر کا منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔
- سلنڈر حادثات اور ناقص کوالٹی: قیمتوں کی ہیرا پھیری کے ساتھ ساتھ ملک میں غیر معیاری اور لوکل سلنڈرز کی بھرمار بھی ایک سنگین مسئلہ رہی ہے، جس کے خلاف انتظامیہ نے کئی بار کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے۔
قیمتوں میں 50 روپے کی یہ ممکنہ کمی عوام کو اس صورت میں سکون دے گی اگر وہ دکان پر جا کر اس ریلیف کو اپنی جیب میں محسوس کر سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اوگرا اس کا حتمی نوٹیفیکیشن کب جاری کرتا ہے۔

Comments
Post a Comment