حملہ آور کی گرفتاری اور محرکات پر پراسرار خاموشی
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، پولیس ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ موقع سے دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے ایک شخص مرکزی طور پر فائرنگ کا مشتبہ ملزم ہے۔ تاہم، جرمن حکام کی جانب سے ابھی تک ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی عمروں، ان کی شناخت، اور حملہ آور کے اس بھیانک اقدام کے پیچھے چھپے اصل مقاصد یا نظریات کے بارے میں کوئی بھی تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب عوام کے لیے مزید کوئی خطرہ موجود نہیں ہے اور صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔
یورپی ممالک میں، خاص طور پر جرمنی میں، عوامی مقامات اور تعلیمی یا نوجوانوں کے مراکز پر فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے وہاں کے سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عام طور پر ایسے حملوں کے پیچھے یا تو شدید ذہنی دباؤ، گینگ وار، یا پھر کسی قسم کی انتہا پسندانہ سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ جرمن حکومت کے لیے اب گن کنٹرول قوانین اور ایسے حساس مراکز کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
جرمنی میں فائرنگ اور عوامی مقامات پر حملوں کی ہسٹری:
یورپ کے پرامن ترین سمجھے جانے والے ملک جرمنی میں ماضی قریب میں بھی ایسے کئی ہولناک واقعات رونما ہو چکے ہیں:
- ہیمبرگ فائرنگ سانحہ (2023): جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ایک مذہبی مرکز کے اندر سابقہ رکن نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک غیر مولود بچے سمیت 7 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
- ہائڈل برگ یونیورسٹی حملہ (2022): ایک 18 سالہ طالب علم نے یونیورسٹی کے لیکچر ہال کے اندر گھس کر فائرنگ کی تھی جس میں ایک طالبہ ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے، بعد میں حملہ آور نے خودکشی کر لی تھی۔
- ہناؤ فائرنگ اسکینڈل (2020): جرمنی کے شہر ہناؤ میں نسلی تعصب اور رائٹ ونگ انتہا پسندی سے متاثرہ ایک شخص نے دو شیشہ بارز پر فائرنگ کر کے 9 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
ہیمبرگ کے مغرب میں واقع تقریباً 50 ہزار کی آبادی والے اس پرسکون شہر اسٹادے کے عینی شاہدین اس وقت شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ اب دنیا کی نظریں جرمن سیکیورٹی ایجنسیوں کی تفصیلی انکوائری رپورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔

Comments
Post a Comment