10 ارب روپے کی ڈیجیٹل معیشت اور وراثتی جائیداد پر نئے قوانین
ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والی سالانہ کمائی تقریباً 10 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جس پر ٹیکس نیٹ بڑھانا وقت کی ضرورت بن چکا تھا۔ اس کے علاوہ، فنانس بل میں مینوئل انکم ٹیکس ریٹرنز کو ہمیشہ کے لیے بند کر کے صرف الیکٹرانک اور ڈیجیٹل فائلنگ کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ سمیت جن چند شہروں میں اب تک مینوئل (کاغذی) ٹیکس فارم جمع ہو رہے تھے، اب وہ بھی ختم کر دیے جائیں گے۔
کمیٹی نے کونٹینٹ کریٹرز کے علاوہ وراثتی جائیداد (Inherited Properties) اور پلاٹوں پر بھی اہم فیصلے کیے۔ اب وراثتی جائیداد پر کیپیٹل گینز ٹیکس (CGT) کی مالیت کا تعین اس تاریخ سے کیا جائے گا جب جائیداد قانونی طور پر وارث کے نام منتقل ہوگی، نہ کہ اصل مالک کے انتقال کے دن سے۔ اس اقدام سے جائیداد کے وراثت کے معاملات میں قانونی تحفظ اور شفافیت آئے گی۔ دوسری طرف، برآمد کنندگان (Exporters) کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان پر لاگو 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو ختم کرنے کی سفارش بھی منظور کر لی گئی ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: فری لانسرز اور فری اکانومی پر اثرات
سوشل میڈیا کمائی پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنا حکومت کے لیے ریونیو بڑھانے کا ایک ذریعہ تو بن سکتا ہے، لیکن اس کا ایک گہرا اور منفی پہلو بھی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی پے پال (PayPal) جیسے انٹرنیشنل پیمنٹ گیٹ ویز موجود نہیں ہیں اور انٹرنیٹ کی سست رفتار نے آئی ٹی سیکٹر کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ ایسے میں قانونی بینکنگ چینلز کے ذریعے آنے والے ڈالرز پر ٹیکس لگانے سے یہ خطرہ پیدا ہو سکتا ہے کہ نوجوان اپنی کمائی غیر قانونی یا گرے چینلز (جیسے کرپٹو یا ہنڈی حوالہ) کے ذریعے منگوانا شروع کر دیں، جس سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
پاکستان میں آئی ٹی اور سوشل میڈیا ٹیکس کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
- فری لانسرز ٹیکس چھوٹ: ماضی میں پاکستان میں آئی ٹی برآمدات اور فری لانسنگ سے آنے والے ڈالرز پر انکم ٹیکس کی مکمل چھوٹ دی گئی تھی تاکہ نوجوان ملک میں غیر ملکی زرِ مبادلہ لائیں۔
- ٹیکس نیٹ میں تبدیلی: بعد ازاں، فائلرز کے لیے آئی ٹی آمدن پر 1 فیصد برائے نام ٹیکس عائد کیا گیا، لیکن 2026 کے نئے بل میں اسے براہِ راست 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس میں بدلنے کی سفارش کی گئی ہے۔
- ڈیجیٹل ریٹرنز 2013: پاکستان میں انکم ٹیکس ریٹرنز کو ڈیجیٹل کرنے کا عمل 2013 میں شروع ہوا تھا، اور اب 13 سال بعد مینوئل سسٹم کو ملک بھر سے ۱۰۰ فیصد ختم کیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی کمیٹی کی یہ سفارشات اب فائنل بجٹ سیشن میں منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ ڈیجیٹل پاکستان کا خواب دیکھنے والے نوجوانوں کے لیے یہ ٹیکس ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment