راولپنڈی؛ زین شاہ قتل کیس میں اہم پیش رفت، مقدمے میں دہشتگردی اور موب لنچنگ کی دفعات شامل، 6 ملزمان گرفتار

Rawalpindi police officials detain suspects involved in the Zain Shah mob lynching murder case
راولپنڈی کے تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آنے والے نوجوان زین شاہ کے انسانیت سوز قتل کیس کی تفتیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم پیش رفت کی ہے۔ پولیس حکام نے مقدمے کی حساسیت اور نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 ڈبلیو ڈبلیو (11-WW) شامل کر دی ہے، جس کے بعد اس پورے واقعے کو باقاعدہ طور پر "موب لنچنگ" (مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل) قرار دے دیا گیا ہے۔

ملزمان کی گرفتاری اور 10 روزہ جسمانی ریمانڈ

پولیس کے مطابق، مقدمے میں انسدادِ دہشتگردی اور موب لنچنگ کی نئی دفعات شامل کیے جانے کے فوراً بعد کارروائی کرتے ہوئے وحشیانہ تشدد میں ملوث 6 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد میں امجد خان، شاہ حسین، عبدالباسط، حمزہ خان، نعمان خان اور سہیل محمود شامل ہیں۔ پولیس نے تمام گرفتار ملزمان کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت (ATC) میں پیش کیا، جہاں معزز عدالت نے ملزمان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ریمانڈ کے دوران ملزمان سے اس بہیمانہ واقعے کی مکمل منصوبہ بندی، مقتول کے اغواء میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کی برآمدگی اور فرار ہونے والے دیگر ساتھیوں کے بارے میں گہرائی سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

افسوسناک واقعے کا پس منظر اور لاش کی بے حرمتی

پولیس ریکارڈ کے مطابق، دوہرے قتل کا یہ خوفناک واقعہ رواں ماہ 8 مئی کو پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں اس وقت پیش آیا جب محض 1300 روپے کے معمولی لین دین کے تنازع پر جھگڑا شروع ہوا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس معمولی رقم کے تنازع پر سراج محسود نامی شخص اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ زین شاہ کے گھر پر دھاوا بولنے پہنچا، جہاں دونوں فریقین کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا اور گولی لگنے سے حملہ آور سراج محسود موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

سراج محسود کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی اس کے مشتعل عزیز و اقارب اور ساتھیوں نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے ہجوم کی شکل میں زین شاہ کے گھر پر دوبارہ حملہ کیا۔ مشتعل ہجوم نے زین شاہ کو دبوچ کر اس پر بے پناہ انسانیت سوز تشدد کیا، جس کے باعث وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ سفاک ملزمان نے نہ صرف زین شاہ کو بے دردی سے قتل کیا بلکہ اس کی لاش کی بے حرمتی بھی کی، جس کی وجہ سے مقدمے میں دہشتگردی کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ کیس کی تفتیش تاحال جاری ہے اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس حکام کا عزم ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والے اور ہجوم کی آڑ میں ظلم ڈھانے والے کسی بھی مجرم کو معاف نہیں کیا جائے گا اور مظلوم خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Zain Shah Murder Case: Anti-Terrorism Clauses Added, 6 Suspects Arrested in Rawalpindi


In a major development in the brutal murder case of a young man named Zain Shah in Rawalpindi, the local police have officially designated the incident as a "mob lynching". Law enforcement agencies have added Section 11-WW of the Anti-Terrorism Act (ATA) to the official criminal complaint due to the extreme nature of the violence inflicted upon the victim.

Six Arrested and Remanded to Police Custody

Following the inclusion of terrorism charges, the Dhamial Police conducted targeted raids and apprehended six primary suspects identified as Amjad Khan, Shah Hussain, Abdul Basit, Hamza Khan, Numan Khan, and Sohail Mahmood. The suspects were presented before an Anti-Terrorism Court (ATC), which granted a 10-day physical remand to the police. Investigators will utilize this period to interrogate the suspects regarding the conspiracy, find the remaining accomplices, and locate the motorcycle used during the initial abduction attempt.

The Dispute Background and Desecration of Body

According to official reports, the tragic double-murder incident occurred on May 8 in Peer Mehr Ali Shah Town, initially sparked by a petty monetary dispute of just 1,300 PKR. A man named Siraj Mehsud, along with armed cohorts, stormed Zain Shah's residence, which led to a heavy exchange of gunfire resulting in Mehsud's death. Following his demise, an enraged mob consisting of his relatives attacked Zain Shah, subjecting him to fatal torture and subsequently desecrating his body. Law enforcement agencies are conducting continuous raids to arrest the remaining suspects involved in this horrific vigilantism.

The Rawalpindi Police have reiterated their stance that no citizen will be permitted to take the law into their own hands, promising a strict judicial prosecution for all perpetrators.

Comments