ناکہ بندی ختم، منجمد اثاثے بحال اور عالمی منڈی میں تیل سستا
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر عائد تیل اور پیٹرو کیمیکل برآمدات کی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے منجمد اثاثے بھی جاری ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس بڑی خبر کا عالمی معیشت پر فوری اثر دیکھا گیا ہے؛ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے سے عالمی منڈی میں برینگ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر سے زائد گر کر 79.44 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے، جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان ہے۔
معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے کا خصوصی نظام قائم کر دیا گیا ہے۔ تاہم، ایک طرف جہاں سفارت کاری عروج پر ہے، وہاں عسکری محاذ پر تپش برقرار ہے۔ ایرانی قدس فورس کے چیف اسماعیل قانی نے اسرائیل کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر جنوبی لبنان سے نکل جائے، ورنہ اسے سال 2000 والی تاریخی اور ذلت آمیز ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا جب اسرائیلی فوج شکست کھا کر بھاگی تھی۔
تبصرہ و تجزیہ: پاکستان کی بڑی سفارتی فتح اور 60 دن کا امتحان
یہ مذاکرات عالمی سیاست میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی سفارت کاری کی ایک بہت بڑی کامیابی ہیں۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دہانے پر تھا، پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر ایک ناقابلِ یقین بریک تھرو کروایا ہے۔ لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا؛ اگلے 60 دن میں قائم ہونے والے ورکنگ گروپس کو جوہری پروگرام اور پابندیوں کے پیچیدہ تکنیکی معاملات کو حل کرنا ہے۔ کیا یہ روڈ میپ واقعی ایک مستقل امن معاہدے میں بدل پائے گا یا خطے کے دیگر کھلاڑی اس عمل کو سبوتاژ کر دیں گے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔
سابقہ ریکارڈ اور پسِ منظر (Evergreen Context):
اس تاریخی روڈ میپ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے ان تاریخی ریکارڈز پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
- لبنان کا لبریشن ڈے (25 مئی 2000): اسرائیل نے جنوبی لبنان پر 22 سال تک قبضہ برقرار رکھا تھا، لیکن شدید مزاحمت کے بعد 25 مئی 2000 کو اسرائیلی فوج کو وہاں سے ذلت آمیز انخلاء کرنا پڑا تھا، جسے لبنان میں ہر سال یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
- منجمد اثاثوں کی تاریخ: 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے امریکہ نے ایران کے اربوں ڈالرز کے معاشی اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر رکھے ہیں، جن کی بحالی ایران کی معیشت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے۔
- پاکستان کا ثالثی کا کردار: پاکستان ماضی میں بھی کئی بار سعودی عرب، ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کم کرانے کے لیے ایک غیر جانبدار مسلم طاقت کے طور پر اپنا سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں تکنیکی سطح کے مذاکرات پورا ہفتہ جاری رہیں گے اور پوری دنیا کی نظریں اس 60 روزہ روڈ میپ پر لگی ہوئی ہیں جو عالمی امن کا نیا رخ طے کر سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment