امریکی ریاست آئیووا کے شہر مسکاٹائن میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک خاندانی تنازع کے دوران مسلح شخص نے اندھا دھند فائرنگ کر کے اپنے ہی خاندان کے 6 ارکان کو بیدردی سے قتل کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں کم از کم دو بچے بھی شامل ہیں۔ اس ہولناک واردات کو انجام دینے کے بعد حملہ آور نے پولیس کے سامنے خود کو بھی گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔
تین مختلف مقامات پر قتل عام
مقامی پولیس چیف انتھونی کیس کے مطابق، پیر کے روز دوپہر کے وقت پولیس کو فائرنگ کی پہلی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر ایک رہائشی مکان میں داخل ہوئے۔ وہاں پولیس کو 4 افراد کی لاشیں ملیں جنہیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ 52 سالہ حملہ آور، جس کی شناخت ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے ہوئی ہے، موقع سے فرار ہو چکا ہے۔
پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی تو اسے شہر کے ایک پیدل چلنے والے راستے (ٹریل) کے قریب گھیر لیا گیا۔ جس وقت پولیس افسران ملزم سے بات چیت کر کے اسے ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے تھے، اس نے اچانک اپنے پاس موجود ہتھیار سے خود پر گولی چلا دی اور موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ اس کے بعد جب تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا تو پولیس کو شہر کے دو دیگر مقامات سے مزید دو مردوں کی لاشیں ملیں، جن میں سے ایک لاش قریبی گھر اور دوسری ایک مقامی بزنس سینٹر سے برآمد ہوئی۔
اسکول کے طلباء اور عملہ بھی شامل، تفتیش جاری
مسکاٹائن کمیونٹی اسکول ڈسٹرکٹ کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے خاندان کے ارکان میں سے دو بچے اسی ڈسٹرکٹ کے اسکول میں زیرِ تعلیم تھے جبکہ دو مقتولین اسکول کے باقاعدہ ملازم تھے۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد پورے شہر میں سوگ کا سماں ہے اور اسکولوں میں طلباء و عملے کے لیے کونسلرز کی خدمات فراہم کی گئی ہیں۔
پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے یہ واضح ہے کہ یہ تمام ہلاکتیں گھریلو دشمنی اور خاندانی جھگڑے کا نتیجہ ہیں، تاہم اس بات کا پتا لگایا جا رہا ہے کہ جھگڑے کی اصل وجہ کیا تھی۔ پولیس نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ مارا جانے والا حملہ آور پہلے سے ہی مجرمانہ ریکارڈ کا حامل تھا۔

Comments
Post a Comment