"گاڑی روکنے اور ہاتھ اٹھانے کے باوجود گولیاں چلا دیں"
شہید بچے کے والد فہد ابو ہیکل، جو بیت اللحم یونیورسٹی میں لکچرار ہیں، نے اسرائیلی اخبار 'ہآرٹز' کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ جمعے کی شام اپنی والدہ، اہلیہ، 11 سالہ بیٹے اور 7 ماہ کے بچے سیم (Sam) کے ساتھ جا رہے تھے۔ راستے میں فوجیوں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا، "میں نے گاڑی مکمل طور پر روک دی اور اپنے ہاتھ اسٹیرنگ ویل پر اٹھا لیے، لیکن فوری بعد انہوں نے فائرنگ شروع کر دی، ایک گولی میرے ہاتھ کو چیرتی ہوئی پیچھے بیٹھے معصوم بیٹے سیم کو جا لگی۔"
فہد ابو ہیکل نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ گاڑی ان کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی دن کا اجالا تھا، گاڑی کے شیشے بھی کالے نہیں تھے اور فوجی صرف 10 میٹر کے فاصلے پر کھڑا تھا، وہ واضح دیکھ سکتا تھا کہ گاڑی میں ایک فیملی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ زخمی بچے کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
مغربی کنارے میں معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم 'بتسیلم' (B'Tselem) کے مطابق اس سے قبل 15 مارچ کو بھی طمون کے علاقے میں اسرائیلی فوج نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے 4 افراد بشمول دو معصوم بچوں (عثمان 6 سال اور محمد 5 سال) کو شہید کر دیا تھا اور ایمبولینسوں کو بھی جائے وقوعہ پر آنے سے روک دیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں سینکڑوں معصوم بچے اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں۔
- انصاف اور احتساب کا مطالبہ: شہید بچے کے والد فہد ابو ہیکل نے عالمی برادری سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتل فوجی کا کڑا احتساب ہونا چاہیے اور وہ اس کیس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
- اسرائیلی فوج کا اعترافِ جرم: ہمیشہ کی طرح اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے اس واقعے کو بھی 'غلطی' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق نشانہ بننے والے غیر متعلقہ شہری تھے۔
- بچوں کی شہادتیں: اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک صرف مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں 240 سے زائد فلسطینی بچے شہید کیے جا چکے ہیں۔
معصوم بچوں اور سول آبادی پر براہِ راست فائرنگ کے یہ پے در پے واقعات عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں جس پر عالمی ضمیر بدستور خاموش ہے۔

Comments
Post a Comment