اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ؛ مقبوضہ مغربی کنارے میں 7 ماہ کا معصوم فلسطینی بچہ شہید

A Palestinian family vehicle fired upon by Israeli forces in Hebron, leading to the tragic death of a 7-month-old baby
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل (ہیبرون) میں اسرائیلی فوج نے بربریت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 7 ماہ کا معصوم فلسطینی بچہ شہید اور اس کے والدین شدید زخمی ہو گئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ متاثرہ خاندان نے اسرائیلی فوجیوں کے اشارے پر گاڑی مکمل طور پر روک دی تھی، لیکن اس کے باوجود ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔

"گاڑی روکنے اور ہاتھ اٹھانے کے باوجود گولیاں چلا دیں"

شہید بچے کے والد فہد ابو ہیکل، جو بیت اللحم یونیورسٹی میں لکچرار ہیں، نے اسرائیلی اخبار 'ہآرٹز' کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ جمعے کی شام اپنی والدہ، اہلیہ، 11 سالہ بیٹے اور 7 ماہ کے بچے سیم (Sam) کے ساتھ جا رہے تھے۔ راستے میں فوجیوں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا، "میں نے گاڑی مکمل طور پر روک دی اور اپنے ہاتھ اسٹیرنگ ویل پر اٹھا لیے، لیکن فوری بعد انہوں نے فائرنگ شروع کر دی، ایک گولی میرے ہاتھ کو چیرتی ہوئی پیچھے بیٹھے معصوم بیٹے سیم کو جا لگی۔"

فہد ابو ہیکل نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ گاڑی ان کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی دن کا اجالا تھا، گاڑی کے شیشے بھی کالے نہیں تھے اور فوجی صرف 10 میٹر کے فاصلے پر کھڑا تھا، وہ واضح دیکھ سکتا تھا کہ گاڑی میں ایک فیملی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ زخمی بچے کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

مغربی کنارے میں معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم 'بتسیلم' (B'Tselem) کے مطابق اس سے قبل 15 مارچ کو بھی طمون کے علاقے میں اسرائیلی فوج نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے 4 افراد بشمول دو معصوم بچوں (عثمان 6 سال اور محمد 5 سال) کو شہید کر دیا تھا اور ایمبولینسوں کو بھی جائے وقوعہ پر آنے سے روک دیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں سینکڑوں معصوم بچے اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں۔

  • انصاف اور احتساب کا مطالبہ: شہید بچے کے والد فہد ابو ہیکل نے عالمی برادری سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتل فوجی کا کڑا احتساب ہونا چاہیے اور وہ اس کیس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
  • اسرائیلی فوج کا اعترافِ جرم: ہمیشہ کی طرح اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے اس واقعے کو بھی 'غلطی' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق نشانہ بننے والے غیر متعلقہ شہری تھے۔
  • بچوں کی شہادتیں: اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک صرف مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں 240 سے زائد فلسطینی بچے شہید کیے جا چکے ہیں۔

معصوم بچوں اور سول آبادی پر براہِ راست فائرنگ کے یہ پے در پے واقعات عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں جس پر عالمی ضمیر بدستور خاموش ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Palestinian Infant Shot Dead by Israeli Troops in Occupied West Bank


HEBRON: Israeli troops have shot and killed a seven-month-old Palestinian baby, Sam Fahd Abu Haikal, and injured his parents in Hebron, despite the family complying with orders to stop their vehicle. The father, Fahd Abu Haikal, a lecturer at Bethlehem University, stated that he brought the car to a complete halt and raised his hands, but soldiers immediately opened fire in broad daylight.

Father Rejects Israeli Military Claims

While the Israel Defense Forces (IDF) claimed troops perceived the vehicle as accelerating toward them, they later admitted the victims were uninvolved civilians and expressed "deep sorrow." The father strongly rejected the military’s account, stating the soldier was only 10 meters away and could clearly see the family inside the vehicle through the non-tinted windows.

Rising Casualties in West Bank

According to the UN, over 1,000 Palestinians, including at least 240 children, have been killed in the West Bank and East Jerusalem since the current conflict escalated. Human rights group B'Tselem highlighted similar recent tragedies, calling for strict accountability for the troops involved.

Comments