ہاٹ مائیک لیک، دفاعی بجٹ کا بحران اور ہرمز آبنائے
اجلاس کے پہلے ہی دن فرانس کے شہر ایویان (Évian) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ عشائیے کے دوران ایران اور یوکرین کے اہم ترین معاملات پر کھل کر تعمیری گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدے کے بعد برطانیہ "آبنائے ہرمز" (Strait of Hormuz) کو بحری آمد و رفت کے لیے فوری طور پر کھولنے کے لیے اپنا پورا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اس سٹریٹیجک سمندری راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانے (Demining) کے لیے برطانوی بحریہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سفارتی کامیابیوں کے دعوؤں کے باوجود، اسٹارمر اس وقت تنازعات کی زد میں آئے جب ایک "ہاٹ مائیک" (مائیک کھلا رہ جانے) پر انہیں فرانسیسی صدر میکرون، یوکرینی صدر زیلنسکی اور ٹرمپ کی غیر موجودگی میں تشویش بھرے انداز میں یہ پوچھتے ہوئے سنا گیا کہ "کیا ان کی کوئی الگ میٹنگ چل رہی ہے؟"۔ اس کے علاوہ، برطانیہ کے اندرونی دفاعی بجٹ پر بھی طوفان کھڑا ہے؛ دفاعی فنڈز کی کمی پر سیکرٹری دفاع جان ہیلی کے استعفے کے بعد، اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ نئے سیکرٹری دفاع ڈین جاروس موجودہ بجٹ (جو جی ڈی پی کا 2.6 فیصد ہے) کے اندر ہی اپنی ترجیحات کا تعین کریں گے اور دفاع کے لیے کوئی نیا فنڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔
تبصرہ و تجزیہ: ہوم گراؤنڈ پر سیاسی بقا کی جنگ
اس پوری صورتحال پر گہرا سیاسی تجزیہ یہ بنتا ہے کہ کیئر اسٹارمر اس وقت بیک وقت دو محاذوں پر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کے سامنے برطانوی وقار کو برقرار رکھنے کا سفارتی چیلنج ہے، تو دوسری طرف خود ان کی اپنی لیبر پارٹی کے اندر ان کی قیادت کے خلاف بغاوت کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ جمعرات کو ہونے والے 'میکر فیلڈ بائی الیکشن' کے نتائج اسٹارمر کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معیشت کی گرتی ہوئی صورتحال اور دفاعی بجٹ پر اندرونی استعفوں نے اسٹارمر کی پوزیشن کو عالمی سطح پر کمزور کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے بھی واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے انہیں کسی دوسرے ملک کی "زیادہ مدد" کی ضرورت نہیں ہے، بس ایک دو بحری جہاز کافی ہوں گے۔
برطانوی وزرائے اعظم اور امریکی صدور کے مابین "سفارتی سرد جنگ" کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
برطانیہ اور امریکہ کے مابین "خصوصی تعلقات" (Special Relationship) کے باوجود، تاریخ میں کئی بار برطانوی رہنماؤں کو امریکی صدور کی جانب سے سرد مہر رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو اس موجودہ تنازع کی جڑوں کو واضح کرتا ہے:
- مارگریٹ تھیچر اور رونالڈ ریگن (1983): جب امریکہ نے برطانوی دولت مشترکہ کے رکن ملک گریناڈا پر برطانیہ کو بتائے بغیر حملہ کر دیا، تو 'آئرن لیڈی' مارگریٹ تھیچر شدید برہم ہوئیں اور دونوں اتحادیوں کے مابین شدید سرد مہر سفارتی تعلقات دیکھے گئے۔
- ٹونی بلیئر اور جارج بش (2003): عراق جنگ کے دوران ٹونی بلیئر پر برطانوی عوام اور اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وہ امریکی صدر بش کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور برطانیہ کی اپنی کوئی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بچی، جس کی وجہ سے بلیئر کو شدید عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑا۔
- تھریسا مے اور ڈونلڈ ٹرمپ (2017-2019): ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی بریکسٹ (Brexit) پالیسی کو سرعام تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور لندن کے دورے کے دوران ان کی حریف بورس جانسن کی تعریفیں کر کے تھریسا مے کو شدید سفارتی سبکی کا نشانہ بنایا تھا۔
اندرونی دباؤ اور ممکنہ قیادت کے چیلنج پر بات کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہمیں 2024 میں 5 سال کا عوامی مینڈیٹ ملا ہے، ماضی میں بھی ناقدین نے ہمیں ہر بار غلط ثابت کیا اور اس بار بھی میں ملک کی خدمت کا اپنا مشن جاری رکھوں گا۔"

Comments
Post a Comment