چمکیلی پیکنگ کا دھوکہ اور بھاری برتنوں کا جادو
پنسلوانیا اور نیدرلینڈز کی یونیورسٹیوں میں ہونے والی جدید ریسرچ کے مطابق، جب ہم شاپنگ کرتے ہیں تو چمکیلے، لال اور پیلے رنگ کے پیکٹ ہمارے دماغ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں جن میں عام طور پر غیر صحت بخش اسنیکس ہوتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ایسی چیزوں کو گھر لاتے ہی کسی دھندلے یا غیر شفاف (Opaque) جار میں چھپا دیں تاکہ وہ نظر نہ آئیں۔
ایک اور حیران کن سائنسی انکشاف یہ ہوا ہے کہ اگر آپ ایک ہی کھانا کسی ہلکی پلیٹ کے بجائے ایک "بھاری برتن یا بھاری چمچ" سے کھائیں، تو آپ کا دماغ پہلے ہی یہ فرض کر لیتا ہے کہ یہ کھانا بہت تسلی بخش ہے اور آپ کم کھا کر ہی خود کو پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کھانے کے دوران ہلکی اور دھیمی موسیقی چل رہی ہو، تو انسان سکون سے چبا چبا کر کھاتا ہے جس سے کیلوریز کا استعمال خودبخود کم ہو جاتا ہے۔
تجزیہ: 'ڈیزرٹ اسٹمک' یعنی میٹھے کا الگ پیٹ
کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کا پیٹ بالکل بھرا ہوا ہو، لیکن سامنے جیسے ہی کوئی آئس کریم یا گلاب جامن آئے، تو اچانک اسے کھانے کی جگہ بن جاتی ہے؟ سائنسدان اسے "ڈیزرٹ اسٹمک" (Dessert-Stomach Effect) کہتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان بھوک کی وجہ سے نہیں بلکہ بیرونی محرکات (External Cues) کی وجہ سے کھاتا ہے۔ اس کا بہترین توڑ یہ ہے کہ کھانے کے حجم (Volume) کو کم کیے بغیر اس میں کم کیلوریز والی سبزیاں (جیسے گوبھی یا پالک) شامل کر دی جائیں۔ دماغ سمجھے گا کہ پلیٹ بھری ہوئی ہے، لیکن آپ 25 فیصد کم کیلوریز لے رہے ہوں گے۔
انسانی حواس اور صحت کا سابقہ ریکارڈ (Historical Context):
کھانے پینے کی انڈسٹری اور انسانی نفسیات کا یہ تال میل کوئی نیا نہیں ہے، اس کے پیچھے ایک طویل تاریخ ہے:
- رنگوں کی نفسیات (Color Psychology): دنیا کے بڑے فاسٹ فوڈ برانڈز (جیسے مکڈونلڈز اور کے ایف سی) دہائیوں سے اپنے لوگو میں لال اور پیلا رنگ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ یہ رنگ سائنسی طور پر بھوک چمکانے کا کام کرتے ہیں، جبکہ ہرا اور براؤن رنگ صحت کی علامت مانے جاتے ہیں۔
- پلیٹ کا سائز اور موٹاپا: گزشتہ 50 سالوں میں دنیا بھر کے ریسٹورنٹس میں پلیٹوں کا سائز اوسطاً 25 فیصد بڑھ چکا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ بڑی پلیٹ انسان کو زیادہ کھانا ڈالنے اور ضرورت سے زیادہ کھانے پر مجبور کرتی ہے۔
- صوتی اثرات (Sonic Seasoning): ہالی ووڈ اور یورپی ممالک کے مہنگے ریسٹورنٹس میں ایک خاص پچ کی موسیقی چلائی جاتی ہے۔ اونچی پچ والی موسیقی کھانے کو زیادہ میٹھا اور دھیمی پچ والی موسیقی کھانے کو تلخ محسوس کرواتی ہے، جسے ریٹیلرز اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اگلی بار جب آپ کھانا کھانے بیٹھیں، تو ٹی وی اور موبائل فون کو بالکل بند کر دیں، پلیٹ کو خوبصورت رنگ برنگی سبزیوں سے سجائیں اور دھیمی موسیقی لگائیں۔ آپ کا دماغ خود ہی آپ کو فٹنس کی راہ پر ڈال دے گا۔

Comments
Post a Comment